مقامی خبریں

بہار میں گندم کی سرکاری خریداری سست روی کا شکار: کسانوں کو کھلی منڈی میں زیادہ قیمتیں مل رہی ہیں

شمالی بہار میں اس سال گندم کی سرکاری خریداری کی رفتار انتہائی سست ہے، جس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ کسانوں کو کھلی منڈی میں بہتر قیمتیں اور سہولیات میسر ہیں۔ حکومت نے کسانوں کو 2585 روپے فی کوئنٹل کی کم از کم امدادی قیمت (ایم ایس پی) فراہم کرنے کے لیے پییکس اور تجارتی منڈیوں کے ذریعے خریداری مراکز قائم کیے ہیں، لیکن کسان ان مراکز سے دور رہ رہے ہیں۔

کسان سرکاری مراکز سے کیوں دور ہیں؟

کسانوں کا کہنا ہے کہ انہیں کھلی منڈی میں 2400 سے 2700 روپے فی کوئنٹل تک آسانی سے دام مل رہے ہیں۔ تاجر براہ راست گاؤں اور گھروں سے گندم اٹھا لیتے ہیں اور فوری ادائیگی بھی کر دیتے ہیں۔ اس کے برعکس، پییکس مراکز پر گندم فروخت کرنے کے لیے آن لائن درخواست، نمی کی جانچ، بوریوں کا انتظام، نقل و حمل، مزدوری اور کئی سطح کی کاغذی کارروائی سے گزرنا پڑتا ہے۔ کسانوں کے مطابق، اس عمل میں انہیں تقریباً 90 سے 100 روپے فی کوئنٹل کا اضافی خرچ برداشت کرنا پڑتا ہے۔

خریداری کے اہداف اور موجودہ صورتحال

  • سمستی پور، سیتامڑھی، دربھنگا، مغربی چمپارن، مدھوبنی اور مشرقی چمپارن جیسے اضلاع میں خریداری کی صورتحال ہدف کے مقابلے میں تشویشناک ہے۔
  • مدھوبنی ضلع میں 3861 میٹرک ٹن کے ہدف کے مقابلے میں اب تک صرف 526.80 میٹرک ٹن گندم کی خریداری ہو سکی ہے۔
  • دربھنگا ضلع میں 4429 میٹرک ٹن کے ہدف کے مقابلے میں صرف 238 کسانوں سے 1235 میٹرک ٹن گندم خریدی گئی ہے۔
  • مغربی چمپارن میں 5174 میٹرک ٹن کے ہدف کے مقابلے میں صرف 157 کسانوں سے 619.801 میٹرک ٹن گندم خریدی گئی ہے۔ یہاں نجی تاجر 2600 سے 2700 روپے فی کوئنٹل تک کی پیشکش کر رہے ہیں، جو ایم ایس پی سے زیادہ ہے۔
  • سمستی پور میں 3564 میٹرک ٹن کے ہدف کے مقابلے میں اب تک صرف 735 میٹرک ٹن گندم خریدی جا سکی ہے۔

کسانوں کے اعتراضات

کسانوں کا یہ بھی الزام ہے کہ پییکس مراکز پر نمی کی جانچ کے نام پر گندم واپس کر دی جاتی ہے اور فی کوئنٹل 2 سے 3 کلو اضافی کٹوتی کی جاتی ہے۔ اس کے برعکس، تاجر گھر سے گندم اٹھا کر نقد ادائیگی کر رہے ہیں، جس کی وجہ سے کسان سرکاری مراکز کو چھوڑ کر بازار کا رخ کر رہے ہیں۔

نیپال اسمگلنگ کا اثر

دلچسپ بات یہ ہے کہ سرحدی اضلاع میں نیپال اسمگلنگ کے خدشات بھی فی الحال بے اثر ثابت ہوئے ہیں، کیونکہ وہاں بھی گندم کا بازار بھاؤ تقریباً یکساں بنا ہوا ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ کسانوں کا رجحان بنیادی طور پر بہتر قیمتوں اور آسان طریقہ کار کی طرف ہے۔

محکمہ کسانوں کو سرکاری مراکز کی طرف راغب کرنے کے لیے بیداری مہم چلا رہا ہے، لیکن جب تک خریداری کے عمل کو آسان اور فوری ادائیگی کو یقینی نہیں بنایا جاتا، کسانوں کا کھلی منڈی کی طرف رجحان برقرار رہنے کا امکان ہے۔


دستبرداری: یہ خبر دستیاب مقامی ذرائع کی بنیاد پر مصنوعی ذہانت (AI) کی مدد سے تیار کی گئی ہے۔ AI سے غلطیاں ممکن ہیں اور اس مواد کی صحت یا اصلیت کی کوئی ضمانت نہیں دی جا سکتی۔ TheAinak صرف معلومات کو یکجا کرتا ہے اور اس کے مواد کا ذمہ دار نہیں ہے۔ قارئین سے گزارش ہے کہ کسی بھی معلومات پر بھروسہ کرنے یا اس پر عمل کرنے سے پہلے اس کی آزادانہ طور پر تصدیق ضرور کر لیں۔

😃+

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button