مریضوں کو ریفر کرنے سے پہلے اب بتانی ہوگی ٹھوس وجہ: محکمہ صحت کی نئی ہدایت
مریضوں کے ریفرل پر اب کڑی نگرانی
مظفرپور کے سرکاری ہسپتالوں میں مریضوں کو ہائر سینٹر ریفر کرنے کے عمل میں اب شفافیت لانے کی تیاری کر لی گئی ہے۔ محکمہ صحت کی جانب سے جاری کردہ تازہ ترین احکامات کے مطابق، اب کسی بھی مریض کو دوسرے ہسپتال بھیجنے سے پہلے ڈاکٹروں کو اس کی ٹھوس طبی وجہ بتانا لازمی ہوگا۔ یہ اقدام اس لیے اٹھایا گیا ہے تاکہ مریضوں کو بلاوجہ پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے اور ریفرل کے عمل میں غیر ضروری تاخیر یا لاپرواہی کو روکا جا سکے۔
سول سرجن کو دینی ہوگی مکمل رپورٹ
نئے ضابطہ اخلاق کے تحت، تمام ہسپتالوں کے انچارجز کو پابند کیا گیا ہے کہ وہ ریفر کیے جانے والے ہر مریض کا مکمل ریکارڈ سول سرجن کے دفتر میں جمع کرائیں۔ اس رپورٹ میں اس بات کی وضاحت کرنی ہوگی کہ مریض کو ریفر کرنے کی اصل طبی ضرورت کیا تھی اور اسے کس ہسپتال یا ہائر سینٹر بھیجا گیا ہے۔ سول سرجن ڈاکٹر سدھیر کمار نے اس سلسلے میں تمام ہسپتالوں کو باضابطہ مراسلہ جاری کر دیا ہے، جس میں نئی ہدایات پر سختی سے عمل درآمد کرنے کی تاکید کی گئی ہے۔
نظام میں بہتری کی کوشش
ماضی میں اکثر یہ شکایات موصول ہوتی رہی ہیں کہ مریضوں کو بغیر کسی ٹھوس وجہ کے یا سہولیات کے فقدان کا بہانہ بنا کر ریفر کر دیا جاتا ہے، جس سے غریب مریضوں پر مالی بوجھ بڑھتا ہے اور ان کی جان کو بھی خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔ محکمہ صحت کا ماننا ہے کہ اس نئی رپورٹنگ سسٹم سے ریفرل کے عمل میں جوابدہی بڑھے گی۔ اب ڈاکٹروں کو یہ ثابت کرنا ہوگا کہ مریض کا علاج مقامی سطح پر ممکن نہیں تھا، تبھی اسے ریفر کیا جا سکتا ہے۔
- مریض کو ریفر کرنے کی وجہ بتانا لازمی ہوگا۔
- سول سرجن کو ہر ریفرل کیس کی تفصیلی رپورٹ دینی ہوگی۔
- تمام ہسپتال انچارجز کو نئی ہدایات پر عمل درآمد کا پابند بنایا گیا ہے۔
امید کی جا رہی ہے کہ اس فیصلے سے سرکاری ہسپتالوں میں علاج کی سہولیات بہتر ہوں گی اور مریضوں کو بلاوجہ ریفر کرنے کے رجحان میں نمایاں کمی آئے گی۔ انتظامیہ نے واضح کیا ہے کہ ہدایات کی خلاف ورزی کرنے والے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔
دستبرداری: یہ خبر دستیاب مقامی ذرائع کی بنیاد پر مصنوعی ذہانت (AI) کی مدد سے تیار کی گئی ہے۔ AI سے غلطیاں ممکن ہیں اور اس مواد کی صحت یا اصلیت کی کوئی ضمانت نہیں دی جا سکتی۔ TheAinak صرف معلومات کو یکجا کرتا ہے اور اس کے مواد کا ذمہ دار نہیں ہے۔ قارئین سے گزارش ہے کہ کسی بھی معلومات پر بھروسہ کرنے یا اس پر عمل کرنے سے پہلے اس کی آزادانہ طور پر تصدیق ضرور کر لیں۔
