مظفرپور جنکشن کی کایا پلٹ: ڈیڈ لائن سر پر، مگر 40 فیصد کام اب بھی ادھورا
سست رفتاری کی نذر مظفرپور جنکشن کا ترقیاتی منصوبہ
امرت بھارت یوجنا کے تحت مظفرپور جنکشن کو جدید سہولیات سے آراستہ کرنے کا خواب تشنہ تکمیل نظر آ رہا ہے۔ 442 کروڑ روپے کی لاگت سے شروع ہونے والے اس اہم پروجیکٹ کی تکمیل کی آخری تاریخ قریب ہے، لیکن زمینی حقائق بتاتے ہیں کہ کام کی رفتار انتہائی سست ہے۔ مقررہ مدت ختم ہونے میں اب چھ ماہ سے بھی کم وقت بچا ہے، جبکہ مجموعی طور پر 40 فیصد تعمیراتی کام ابھی بھی التواء کا شکار ہے۔
منصوبے میں تاخیر اور بڑھتی مشکلات
سال 2022 میں شروع ہونے والے اس منصوبے کو اصل میں 2025 تک مکمل ہونا تھا، لیکن کام کی سست رفتاری کے پیش نظر اسے دسمبر 2026 تک بڑھا دیا گیا ہے۔ اس کے باوجود، تعمیراتی ایجنسی اب تک صرف 60 فیصد ہدف ہی حاصل کر سکی ہے۔ پروجیکٹ کے تحت اب تک صرف اسکائی واک، سی ٹی بی، بی ای سی، مکینیکل و سول ڈیپارٹمنٹ کی عمارتیں اور پلیٹ فارم 7-8 کا کچھ حصہ ہی تیار ہو سکا ہے۔ دوسری جانب، مین بلڈنگ اور کونکورس کا کام بلاک نہ ملنے کی وجہ سے شروع ہی نہیں ہو سکا ہے۔
دیگر اسٹیشنوں کا بھی یہی حال
صرف مظفرپور ہی نہیں، بلکہ خطے کے دیگر اہم اسٹیشنوں پر بھی ترقیاتی کاموں کی رفتار مایوس کن ہے۔
- سیتا مڑھی: 264 کروڑ کی لاگت سے جاری کام ابھی صرف بنیاد (فاؤنڈیشن) کے مرحلے میں ہے، جہاں اب تک محض 20 فیصد پیش رفت ہوئی ہے۔
- باپودھام موتیہاری: 184 کروڑ کے اس منصوبے میں اب تک صرف 28 فیصد کام مکمل ہو سکا ہے، جبکہ اس کی ڈیڈ لائن مارچ 2026 میں ختم ہو چکی ہے۔
- دربھنگا: 336 کروڑ کے اس بڑے پروجیکٹ کا کام 2025 میں شروع ہوا تھا، مگر اب تک صرف 0.10 فیصد کام ہی ہو پایا ہے۔
مستقبل کے خدشات
ریلوے کے تعمیراتی ماہرین کا ماننا ہے کہ جس رفتار سے کام چل رہا ہے، اسے دیکھتے ہوئے 2027 سے پہلے ان اسٹیشنوں کی مکمل کایا پلٹ ممکن دکھائی نہیں دیتی۔ بارش کا موسم اور انتظامی رکاوٹیں اس کام میں مزید تاخیر کا باعث بن سکتی ہیں۔ مسافروں کو سہولیات کی کمی کا سامنا ہے اور پروجیکٹ کی لاگت میں اضافے کے ساتھ ساتھ وقت کا ضیاع بھی ایک بڑا سوالیہ نشان بن چکا ہے۔
دستبرداری: یہ خبر دستیاب مقامی ذرائع کی بنیاد پر مصنوعی ذہانت (AI) کی مدد سے تیار کی گئی ہے۔ AI سے غلطیاں ممکن ہیں اور اس مواد کی صحت یا اصلیت کی کوئی ضمانت نہیں دی جا سکتی۔ TheAinak صرف معلومات کو یکجا کرتا ہے اور اس کے مواد کا ذمہ دار نہیں ہے۔ قارئین سے گزارش ہے کہ کسی بھی معلومات پر بھروسہ کرنے یا اس پر عمل کرنے سے پہلے اس کی آزادانہ طور پر تصدیق ضرور کر لیں۔
