مظفرپور: محکمہ صحت کے سخت اہداف، فیملی پلاننگ مہم عملے کے لیے دردِ سر
مظفرپور میں خاندانی منصوبہ بندی کے اہداف کا بوجھ
مظفرپور کے محکمہ صحت کی جانب سے آبادی پر قابو پانے اور خاندانی منصوبہ بندی کو فروغ دینے کے لیے شروع کی گئی خصوصی مہم اب زمینی سطح پر کام کرنے والے عملے کے لیے ایک بڑی آزمائش بن گئی ہے۔ محکمہ کی جانب سے جاری کردہ سخت اہداف کو پورا کرنے کے لیے ضلعی ہسپتال سے لے کر پرائمری ہیلتھ سینٹرز (PHC) اور این جی اوز تک تمام متعلقہ افراد سخت دباؤ کا شکار ہیں۔
اہداف کی تفصیلات
محکمہ صحت نے مختلف سطحوں پر اہداف کی تقسیم کی ہے، جس کے تحت کام کا بوجھ درج ذیل ہے:
- ہر پی ایچ سی کو کم از کم 10 مردانہ نس بندی، 60 خواتین کی نس بندی، 100 کاپر-ٹی اور 200 خواتین کو انترا انجیکشن لگانے کا ہدف دیا گیا ہے۔
- این جی اوز کے لیے 20 مردانہ نس بندی، 70 خواتین کی نس بندی، 20 کاپر-ٹی اور 50 انترا انجیکشن کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
- شہری مراکز (UPHC) کو 10 مردانہ نس بندی، 20 خواتین کی نس بندی، 30 کاپر-ٹی اور 50 انترا انجیکشن کے لیے لوگوں کو قائل کرنے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔
چیلنجز اور زمینی حقائق
اگرچہ حکومت اس مہم پر لاکھوں روپے خرچ کر رہی ہے، لیکن زمینی حقائق اس کے برعکس ہیں۔ خاص طور پر مردانہ نس بندی کے حوالے سے معاشرے میں موجود غلط فہمیاں اور توہم پرستی سب سے بڑی رکاوٹ بنی ہوئی ہے۔ دیہی علاقوں میں محدود وسائل کے ساتھ ان اہداف کو مقررہ وقت میں مکمل کرنا اے این ایم، آشا ورکرز اور ڈاکٹروں کے لیے ایک ناممکن کام معلوم ہوتا ہے۔
فیلڈ میں کام کرنے والے اہلکاروں کا کہنا ہے کہ صرف کاغذی اہداف تھما دینے سے آبادی پر قابو نہیں پایا جا سکتا۔ ان کا ماننا ہے کہ جب تک معاشرے میں شعور بیدار نہیں کیا جاتا اور بنیادی ڈھانچے کو بہتر نہیں بنایا جاتا، تب تک یہ مہم صرف ایک رسمی کارروائی بن کر رہ جائے گی۔ افسران کی جانب سے سخت رویہ اپنانے کے بعد عملہ دن رات فیلڈ میں بھاگ دوڑ تو کر رہا ہے، لیکن نتائج کی شرح اب بھی مایوس کن ہے۔
مستقبل میں اس مہم کی کامیابی کا انحصار اس بات پر ہے کہ محکمہ صحت کس طرح عوامی ذہنیت کو تبدیل کرنے اور عملے کو درپیش وسائل کی کمی کو دور کرنے کے لیے حکمت عملی تیار کرتا ہے۔
دستبرداری: یہ خبر دستیاب مقامی ذرائع کی بنیاد پر مصنوعی ذہانت (AI) کی مدد سے تیار کی گئی ہے۔ AI سے غلطیاں ممکن ہیں اور اس مواد کی صحت یا اصلیت کی کوئی ضمانت نہیں دی جا سکتی۔ TheAinak صرف معلومات کو یکجا کرتا ہے اور اس کے مواد کا ذمہ دار نہیں ہے۔ قارئین سے گزارش ہے کہ کسی بھی معلومات پر بھروسہ کرنے یا اس پر عمل کرنے سے پہلے اس کی آزادانہ طور پر تصدیق ضرور کر لیں۔
