توحید کی روسنی دِکھانے نکلی قوم برتھ ڈے کی موم بتی سے دین کا چراغ بجھا رہی ہے

توحید کی روسنی دِکھانے نکلی قوم برتھ ڈے کی موم بتی سے دین کا چراغ بجھا رہی ہے
اس بات سے کسی کو انکار نہیں ہے کہ ہر انسان خوش رہنا اور خوشیاں منانا پسند کرتا ہےاس لیے کہ خوشیاں منانا انسانی فطرت ہے،
اور انسانی زندگی میں خوشیاں منانے کے مواقع بھی بہت ہیں جیسے شادی، بیاہ، نئے سال کی آمد،جشن یوم آزادی اور دیگر تیہوار وغیرہ کہ ان ایام میں انسان اپنی خوشیوں کا اظہار مختلف طریقے سے کرتا ہے جیسے کبھی رشتہ دار اور دوست و احباب کو مدعو کرکے تو کبھی کسی محفل کا انعقاد کرکے تو کبھی اپنے دوست و احباب کے ساتھ سیر و تفریح کرکے۔
جنم دن منانا بھی اسی میں شامل ہے کہ اس سے زیادہ اہم اور خوشی کا دن اور کیا ہوسکتا ہے کہ اسی دن وہ پیدا ہوا ہے ۔اسی لیے اس دن کو انسان بہت ہی تزک و احتشام، دھوم دھام اور شان و شوکت کے ساتھ مناتا ہے، محفلیں قائم کرتا ہے، دوست و احباب کو مدعو کرتا ہے اور پھر مبارکبادی کا سلسلہ شروع ہوتا ہے۔
لیکن اب جنم دن (یوم پیدائش)پر خوشیاں منانے کا طریقہ بلکل بدل گیا ہے اس غلط طور طریقے کی اصلاح بہت ضروری ہے۔
Advertisement
تو آئیے دیکھتے ہیں کہ اپنے سماج میں کس طرح سے منایا جاتا ہے یوم پیدائش(جنم دن)؟
یومِ پیدائش کے موقع سے عام طور پر دوست و احباب کی موجودگی میں Happy Birthday to you گاتے ہوئے ایک کیک کاٹا جاتا ہے ۔
لیکن اس کے ساتھ جو جاہلانہ اور غلط طریقہ لوگوں نے اپنا رکھی ہے کہ سب سے پہلے کیک کے اوپر موم بتی جلاتے ہیں اور اس کو کاٹنے سے پہلے پھوک مارک کربجھاتے ہیں ۔اس پر حد تو یہ کہ اس کیک کو کاٹنے کے بعد ایک دوسرے کے منہ پر لگا کر برباد کرتے ہیں مانو کہ کیک کھانے کے لیے نہیں بلکہ منہ پر رگڑ کر برباد کرنے کے لیے ہو ۔
ذرا سوچیے کہ جس کیک کے ٹکڑے کو ہم لوگ ایک دوسرے کے چہرے پہ رگڑ کر برباد کررہے ہیں اسی چھوٹے ٹکڑے کی کمی کی وجہ سے نہ جانے کتنے لوگ اس دنیا میں بھوک سے دم توڑ رہے ہیں۔
جب اپنے قوم کے افراد کو اس طرح کے جھوٹے اور غیر شرعی رسموں میں پھنسا ہوا دیکھتا ہوں تو یہی سوچتا ہوں کہ کیا یہ وہی قوم ہے جو توحید کی روشنی دنیا کو دیکھانے نکلی تھی؟!!
اگر آپ آج کے ماڈل اور تہذیب کا درس دینے والے اسکول، کالج میں یوم پیدائش (جنم دن) کے تقریب میں جائیں گے تو اسے اور بھی زیادہ جاہلانہ و غیر مہذب رسم و رواج میں ملوث پائیں گے ۔ ہر وہ کام جسے ایک مہذب معاشرہ، سماج غلط سمجھتا ہے ان تمام کام کو تقریبِ یوم پیدائش اور تہذیب و کلچر کے نام پر کرتے ہیں اور اسے بڑھاوا دیتے ہیں ۔
انسان اور جانور کے درمیان ایک اہم فرق ہے شرم اور حیا، لیکن آج کے زمانے نے ایسے ایسے جھوٹے، جاہلانہ و غیر مہذب رسم و رواج کو جنم دیا ہے کہ جس کے ذریعے انسانوں سے شرم و حیا کو ختم کرکے اسے جانوروں کے مثل کردیا جائے۔
دُکھ تو تب ہوتا ہے جب توحید کے ماننے والے بھی ایسے جھوٹے اور غیر مہذب رسموں رواجوں سے خود کو نہیں بچا پائے۔ وہ قوم جو خود کو ہزار سجدوں سے آزاد کرکے واحد خدا کے سامنے جھکتی تھی، آج دوبارہ ایسے جھوٹے غير مہذب اور غیر شرعی رسموں، رواجوں کی موم بتی سے دین کی روشنی بجھا رہی ہے۔
تو آخر کس طرح سے منایا جائے یوم پیدائش (جنم دن)؟
اسلام نے خوشیاں منانے سے منع نہیں کیا ہے بلکہ برے رسم و رواج، برے طور طریقے،غیر شرعی امور اور بری باتوں سے منع کیا ہے ۔
ہم اگر چاہیں تو ان تمام بری رسم و رواج سے ہٹ کر اچھے طریقے سے جنم دن مناسکتے ہیں کہ جنم دن کی خوشیاں منانے کے لیے ایک تقریب، ایک محفل کا انعقاد کریں جس میں سب عزیز و اقارب، دوست و احباب کو دعوت دیں اور سب مل کر اس انسان کے لیے خیر و برکت، خوش حالی، اسکی بہتر زندگی، اس کی کامیابی اور اس کے روشن مستقبل کے لیے دعا کریں۔ ذرا آپ سوچیں کہ وہ کتنا خوش قسمت ہے کہ اتنے لوگ مل کراس کو مبارکبادی پیش کریں گے اور اس کے لیے دعا کریں گے۔ حدیث پاک میں کہ"دعا سے تقدیر بدل جاتی ہے”
اور ساتھ ہی اپنی اس خوشی میں غریبوں اور لاچاروں کو بھی شریک کریں اس طرح کہ انھیں صدقہ و خیرات دیں ان کی ضروریات پوری کریں انہیں کھانا، کپڑا دیں، اس طرح ان کی بھوک بھی مٹ جائے گی اور انھیں اپنا بدن چھپانے کا سامان بھی مل جائے گا اور انکی دعائیں بھی حاصل ہوجائیں گی۔ حدیث پاک میں ہے کہ "صدقہ بلاؤں کو ٹالتا ہے” ۔
اس کا سب بڑا فائدہ یہ ہوگا کہ ہماری آنے والی نسلیں مہذب، باشعور اور بڑوں کی عزت کرنے والی ہوں گی اور انھیں اس کے ذریعے ایک دوسرے کے ساتھ مل کر رہنے، ایک دوسرے کی مدد کرنے، ایک دوسرے کا دُکھ درد میں کام آنے اور ایک دوسرے کے لیے مر مٹنے کا جذبہ بھی پیدا ہوگا۔اس طرح سے ہماری اولاد اس دنیا میں ایک باشعور، مہذب اور باعزت افراد بن کر زندگی گزاریں گے اور ایک بہترین سماج اور ایک اچھے معاشرے کی تشکیل ہوگی۔
ترجمہ و ترتیب
نسیم القادری