Islam
لاک ڈاؤن اور رمضان میں قرآن کو راہنما بنائیں!

Advertisement
لاک ڈاؤن اور رمضان میں قرآن کو راہنما بنائیں!
مفہوم آیت ہےکہ: "اگر تم میری عطا و نوازش کو شمار اور گنتی میں لانا چاہو تو لا نہیں سکتے”۔
اس آیت کریمہ کے ترجمہ اور مفہوم سے صاف پتہ چل رہا ہےکہ اللہ پاک نے ہمیں اپنے بےشمار انعام و اکرام سے نوازا ہے۔
چنانچہ اسی انعام و اکرام کو محسوس کرتے ہوئے اگر پوری مخلوق بھی باری تعالی کی حمد و ثناء اور اس کا شکریہ بجا لانا چاہے اور باری تعالی اس میں مزید سہولت یہ اور پیدا کر دے کہ: "روئے زمین پر موجود درختوں کو قلم بنا دیں، موجودہ سمندر کے پانی کو سیاہی سے بدل کر ان کے واسطے سات سمندر اور تیار کر دئے جائیں اور پھر پوری مخلوق مل کر بھی اللہ کی تخلیق و قدرت کا احصیٰ و اندازہ، اس کی نعمتوں کا شمار و حساب کرنے یا رات و دن ہونے والی بارش کی بوندوں کی مانند اس کی رحمت و برکات کو اعداد و احاطہ میں لانا بھی چاہے تو ایسا کرنا تمام مخلوق کےلئے ناممکن ہوگا؛ کیونکہ آیت مبارکہ میں یہ تصریح بھی فرما دی گئی ہےکہ:
"قلم گِھس گھس کر ٹوٹ جائیں گے، سمندر خشک ہو جائیں گے، لکھنے والوں کی عمریں فنا ہو جائیں گی؛ پر اللہ کی تعریفیں، اس کی خوبیاں اور نعمتیں ختم ہونے والی نہیں ہیں”۔
الغرض! باری تعالی کے بےحد و بےحساب انعامات ہیں جو شمار نہ کئے جانے والے بارش کے قطروں کی طرح انسانوں پر رات و دن برس رہے ہیں جن سے ہر ایک اپنے ظرف، ماحول، مزاج اور ضرورت کے اعتبار سے فائدہ اٹھا رہا ہے، جس پر خدا کی طرف سے نہ کوئی ٹیکس عائد ہوتا ہے اور نہ کوئی مطالبہ اور تقاضا ہوتا ہے، برخلاف دنیاوی حکمرانوں اور سیاستدانوں کے، کہ اگر یہ کسی کو کوئی حقیر و ادنیٰ درجہ کا بھی فائدہ پہنچا دیں یا وقتی ضرورت کے سامان کا انتظام کر دیتے ہیں تو مختلف شکلوں اور طریقوں سے بعد میں نہ صرف اس کی زائد از قیمت وصول کرتے ہیں بلکہ امداد و مہربانی کے نام پر زندگی بھر کےلئے اس غریب کے گلے میں اس چیز کو ذلت و رسوائی کا طوق بنا کر ڈال دیا جاتا ہے۔ اور یہی امر و وصف اس چیز کو نمایاں طور پر واضح کرتا ہےکہ: "وہ خالق ہونے کے ناطے نوازتا ہے مگر مخلوق کی طرح احسان نہیں جتاتا، جیسے وہ اپنی ذات میں کامل و مکمل ہے ویسے ہی اس کا معاملہ بھی مخلوق کے ساتھ اعلیٰ اور شاندار درجے کا ہوتا ہے، وہ دنیاداروں کی طرح ناقص و بودا معاملہ کسی کے بھی ساتھ نہیں فرماتا، کہ یہ دنیا والے ادھر چنداں احسان و مہربانی سے پیش آئے اور ادھر دونا چوگنا اعتبار سے وصول کر لیا، اس کی ذات عالی مقام کو دوام حاصل ہے جبکہ مخلوق فنا ہونے والی ہے، اس اعتبار سے بھی اس کی طرف سے انسانوں کے ساتھ عزت و شرف کا معاملہ کیا جاتا ہے جبکہ یہ دنیا کے حکمراں اپنی جیسی مخلوق کے ساتھ ہی عمومی طور ذلت و نکبت سے پیش آتے ہیں اور مخلوق کو ہر قسم کے ظلم و جبر سہنے اور برداشت کرنے پر مجبور کرتے ہیں۔ خالق دوجہاں جب انسانوں میں سے کسی کو حکومت و سلطنت سے، عہدہ و مناصب سے یا مال و اولاد کی نعمت عظمیٰ سے نوازتا ہے تو کم ظرف و کم نظر مخلوق کی طرح احسان کا بھاری جوا انسانوں کے ناتواں کاندھوں پر کبھی نہیں رکھتا، وہ جیسے اپنے علم اور اپنی ذات میں کامل ہے ویسے ہی اپنے اوصاف اور فیصلوں میں کل مختار ہے، وہ ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہےگا، انسان کا نہ علم کامل ہے، نہ اس کی ذات مکمل ہے اور نہ ہی وہ ہمیشہ ہمیش رہنے کےلئے اس دنیا میں بھیجا گیا ہے۔ اس کے باوجود پتہ نہیں کیوں اکثریت کے مزاج میں بلا کی اکڑ و تکبر بھرا ہے، حکمراں طبقے کے ذہن میں رعونت و شیطنت بھری رہتی ہے جس کی وجہ سے ان کی طبیعت ہردم ظلم و بربریت، ناانصافی، حق تلفی، لوٹ کھسوٹ، قتل و غارت گری اور بےگناہوں کو پابند سلاسل کرنے پر آمادہ رہتی ہے، اس کے علاوہ بھی سینکڑوں خسیس و لعین عادتوں میں یہ طبقہ ملوث اور شامل رہتا ہے (کہ ان کو یہاں بیان کرنا مقصود نہیں) اور یہی طبقہ خود کو معزز و مکرم کہلاتے بھی نہیں تھکتا؟
حلانکہ اشرف المخلوقات کا اعزازی طمغہ اسے پیدائشی طور پر حاصل ہے لیکن کبھی بھی حاصل شدہ اس خدائی اعزاز کی طرف غور و فکر سے کام نہیں لیتا اور نہ ہی یہ بات کبھی اس کے حاشیۂ خیال میں گردش کرتی نظر آتی ہے کہ کم از وہ اپنے مقصد تخلیق پر غور کر اس زندگی کے بارے میں سوچے جس سے اس کا سابقہ اس دنیا سے رخصت ہونے کے بعد ہونا ہے، جہاں نہ مال و دولت کی رفاقت کام دےگی اور نہ ہی اعزا و اقارب کی معیت حاصل ہوگی، غیر اور اجنبی تو کُجا اپنے خاص اور چہیتے بھی ایک نظر بھر کر دیکھنے کو تیار نہ ہوں گے، نفسی نفسی کا عالم ہوگا، کوئی کسی کا ہمدرد و غم خوار نہ ہوگا، ہر ایک کو اپنے مقام پر رہتے ہوئے خوش کُن نتائج کی فکر دامن گیر ہوگی جس کی وجہ سے تمام انسانی ابدان پسینہ سے تربتر اور شرابور ہوں گے۔(اللہ پاک ہم سب کے ساتھ اس دن آسانی کا معاملہ فرمائے؛آمین)
اللہ کے پیارے حبیب محبوب کون و مکاں خاتم النبیین والمرسلین حضرت محمد مصطفے (ﷺ) نے ماہ رمضان المبارک سے کما حقہٗ مستفید ہونے اس کے ایک ایک لمحے اور ساعت کو یاد خدا میں مشغول و مصروف رکھ کر اپنی اور اپنے اعزا و اقارب کی مغفرت کے سامان کرنے نیز دنیا و آخرت کی تمام خیر و برکت، فوز و فلاح، امن و امان، صحت و تندرستی، جان و مال کا تحفظ اور ایمان و عقائد کی سلامتی کے ساتھ اس دنیا سے رخصت ہونے کی دعائیں اور التجائیں کرنا سکھایا ہے، اور از راہ شفقت اس ماہ مبارک "رمضان کریم” کو تین برابر حصوں میں تقسیم کر اس کے پہلے عشرہ کو رحمت دوسرے کو مغفرت اور تیسرے کو جہنم سے خلاصی اور نجات پر مبنی قرار دیا ہے نیز اپنے بعد آنے والے لوگوں کو اس بات کی تعلیم و تلقین فرمائی تاکہ اہل ایمان اس کے ایک ایک لمحہ سے فائدہ اٹھائیں اور سال بہ سال نصیب ہونے والے اس مبارک و مسعود ماہ کو اپنی نجات کا اہم ذریعہ بنائیں، اس لئے فرمایا کہ: "بڑا بد نصیب و کم سعادت ہوگا وہ شخص جو رمضان المبارک کا مقدس و محترم مہینہ تو پائے مگر پھر بھی اپنی مغفرت اور نجات کا سامان نہ کر سکے”؟ (اللہ کریم ہم سب کو ماہ رمضان المبارک کی قدر دانی نصیب فرمائے اور ہم سب کی مغفرت فرمائے؛ آمین)
ناظرین کرام ! ‘لاک ڈاؤن’ کا چلہ مکمل ہونے سے قبل ہی حکومتی طور پر اس میں پندرہ دن کا اضافہ کر مزید دو ہفتوں کی اور توسیع کر دی گئی ہے اور یہ توسیع و اضافہ بھی آخری ہو؛ ایسا ابھی کچھ نہیں کہا جاسکتا، کیونکہ حالات جیسے جیسے بد سے بدتر ہونے کی طرف رواں دواں ہیں انہیں دیکھ کر اس سلسلے میں ابھی کچھ بھی کہنا قبل از وقت ہوگا، بلکہ ماہرین حالات شناس اور طبی عملہ کی مانیں تو زیادہ امید اسی بات کی ہے کہ یہ ‘تالا بندی’ بدستور جاری رہےگی گرچہ نرمی کر عوام کے راحت و سکون کا خیال رکھا جائےگا۔ اب ایسے بندشی حالات میں ہم کیا کریں اور کیسے وقت سے فائدہ اٹھا اسے اجتماعی اور انفرادی طور پر کیسے کارگر بنایا جائے، رمضان المبارک کا عشرۂ رحمت گزر جانے کے ساتھ اب اس کا نصف حصہ گزرنے والا ہے، تو اس سلسلے میں ہم نے کتنا فائدہ اٹھایا اور مابقیہ نصف ماہ میں زیادہ سے زیادہ خود کو عبادت و ریاضت میں مشغول رکھ کر بہتر سے بہتر انداز میں اپنی، اپنے اہل خانہ، دوست احباب اور رشتہ داروں کی مغفرت کا کیا تو ہم نے سامان کیا؟ کیا اس کےلئے ہمارے پاس تیاریاں ہیں؟ یا ذہنی اور جسمانی طور پر ہم کتنے تیار و مستعد ہیں جس سے کہ یہ کہا جائے کہ ہاں ہم نے اس ماہ مبارک کو مکمل ہوش و حواس اور صحت و تندرستی کی حالت میں پایا بھی اور ارشادات رسول عربی (ﷺ) کے مطابق اور اپنی ہمت و استعداد کے موافق اسے کارآمد و کامیاب بھی کیا؟
تو آئیے! اس سلسلے میں قرآن مجید سے کچھ رہنمائی حاصل کرتے ہیں۔
ناظرین جیسا کہ آپ کو یاد ہوگا کہ جب سے ‘کورونا وائرس” نامی عالمگیر وبا نے پوری دنیا کے نظام سلطنت اور انسانی معاشرے کو متأثر کیا ہے اور ملک در ملک شہر بہ شہر "لاک ڈاؤن” کی صورت حال سے دوچار ہوئے ہیں تبھی سے ہم مناسبت حال کی رعایت کرتے ہوئے مختصر طور پر آیات قرآنی کے مفہوم پر مشتمل تحریر بذریعہ ‘واٹس اپ اسٹیٹس’ دوست احباب کی خدمت میں یومیہ حاضر کرتے آ رہے ہیں، بعد میں جن کو افادۂ عام کی خاطر حوالۂ قرطاس و قلم کر اخبارات کو بغرض اشاعت بھی ارسال کر دیا جاتا ہے، آج کی یہ تحریر اسی سلسلے کی کڑی ہے۔ چنانچہ اس ہفتے ہمارا پہلا اسٹیٹس "آیت صوم” سے اخذ کردہ ﴿ھُدًی لِّلنَّاسِ﴾ تھا: اس میں ہم نے قرآن کی ظاہری باطنی افادیت و معنویت کی طرف لوگوں کی توجہ مبذول کراتے ہوئے رقم کیا کہ:
"قرآن کریم لوگوں کےلئے سراپہ خیرخواہ بھی ہے اور چشمۂ رشد و ہدایت بھی! اس میں بےقرار دلوں کا سکون بھی پوشیدہ ہے اور یہ بےبس و بےسہارا لوگوں کا مداوا بھی بنتا ہے! قرآن جہاں ضلالت و گمراہی کی پُرپیچ راہوں میں ٹامک ٹوئیاں مارنے والوں اور راہ حق سے منحرف و برگشتہ افراد کی درست راہنمائ کا فریضہ بھی انجام دیتا ہے وہیں فکر و اذہان کو راہ حق کی طرف منتقل کرنے میں روشن قندیل بن کر ان کو راہ طریقت و سلوک کا مسافر بناتا ہے نیز تحقیق و تخلیق کے عادی افکار و خیالات کو وسعت اور بلند پروازی عطا کرتا ہے”۔ الغرض زندگی کے منازل و مراحل طے کرنے میں یہ ہمارا بہترین ساتھی اور مددگار ہے!
دوسرا اسٹیٹس ﴿فَلْیَصُمْہُ﴾ تھا: اس میں ماہ رمضان کو پالینے کے بعد اس کے روزوں کی ادائیگی کی صورت میں حاصل ہونے والے فضائل و فوائد کے متعلق بتایا گیا کہ:
"جو کوئی اس مہینے (رمضان) کو پالے تو وہ ضرور روزے رکھے”۔
اس ماہ کے فضائل مخصوصہ، فوائد جلیلہ اور انوار و برکات سے جب لوگ واقف ہو گئے تو اب ان سب کو بھی رمضان کے روزے رکھنے کا حکم ہوا جنہیں ابتداً (طبیعتوں کے عادی نہ ہونے پر) سہولت اور رعایت دی گئی تھی (کہ روزہ نہ رکھ سکیں تو فدیہ دے دیں) لیکن وہ رعایت اب موقوف ہو گئی!
انتہائی خوش قسمت ہیں وہ حضرات جنہیں یہ ماہ مبارک سالہا سال سے نصیب ہوتا چلا آ رہاہے اور وہ ہربار دل و جان سے روزوں کا اہتمام کر؛ انعام حاصل کرتے ہیں۔
ہفتے کا تیسرا اسٹیٹس ﴿لَعَلَّکُمْ تَشْکُرُوْنَ﴾ تھا: اس میں روزہ کی پابندی پر ملنے والے اجر و ثواب کی بابت بتایا گیا ہے کہ: اللہ پاک نے روزہ جیسی مفید عبادت فرض فرمائی؛ اس پر بھی ہمیں اس کی شکرگزاری کرنی چاہیے، اس لئے کہ دوران صیام پیش آنے والی مشقت و پریشانی پر صبر و ضبط سے کام لیا جاتا ہے تو اس پر اللہ پاک ایک تو اپنے ایسے بندوں کو نعمتوں پر "شکر” کرنے والوں کی جماعت میں شامل فرماتا ہے، دوسرے اس کا وعدہ ہےکہ:
"میں روزے داروں کو بہت ساری سہولتوں سے نواز کر (دنیا میں) خیر و بھلائی اور (آخرت میں) ہرقسم کے اجر و انعام اور کامل ثواب سے نوازوں گا” (ثوابِ کامل کا ملنا یہ ہےکہ اللہ پاک ان بندوں کو اپنی رضا اور قربت عطا فرمائےگا)
چوتھے اور پانچویں روز کا اسٹیٹیس ﴿سَأَلَکَ عِبَادِیْ﴾ تھا: اس میں قسط وار پہلے دن یہ بتایا گیا تھا کہ اللہ تعالی کی طرف سے "روزہ کے تعلق سے اولاً یہ حکم ہوا تھا کہ: "کھانے پینے یا اپنی عورتوں سے ہمبستر ہونا ہے تو اول شب میں فارغ ہو لیا جائے یعنی سو جانے کے بعد ان امور کی اجازت نہ تھی” مگر چند لوگوں سے اس کے خلاف ہوا جس کے بعد وہ اپنے اس قصور پر اقرار و ندامت کے ساتھ بارگاہ رسالت مآب (ﷺ) میں حاضرخدمت ہوئے اور توبہ کی نسبت آپؐ سے "سوالی” ہوئے؛ جس پر آیت کریمہ نازل ہوئی کہ "تمہاری توبہ قبول کر لی گئی ہے”۔
اس سے پتہ چلتا ہےکہ "احکام خداوندی کی اطاعت بہرصورت لازم ہے، اور اگر گناہ ہو بھی جائے تو اقرار غلطی کے ساتھ فوراً توبہ و استغفار میں مشغول ہونا چاہئے” ﴿جب کہ اگلے روز ﴾ بتایا گیا کہ:
"حکم سابق (سوکر اٹھنے کے بعد کھانا پینا یا ہمبستر ہونے) کو منسوخ فرما کر اسی آیت میں اللہ پاک کی بندوں پر مہربانی اور سہولت و عنایت کا ذکر اس طورپر کیا گیا کہ آپؐ سے بعضوں نے آکر پوچھا کہ: ہمارا رب دور ہے تو ہم اس کو (زور سے) پکاریں یا نزدیک ہے تو آہستہ سے بات کریں؟ تو آیت نازل ہوئی کہ: "وہ قریب ہے، ہر بات سنتا ہے آہستہ ہو یا زور سے”۔ہمیں بھی اپنے رب کی حمد و ثناء، تہلیل و تقدیس اور اس کی پاکی بزرگی بیان کرتے رہنا چاہئے، چاہے جس انداز و اطوار سے ہو نیز ہروقت اس کے الطاف و عنایات کا جویا بن کر شکرگزار (بندہ بن کر) رہنا چاہیئے!
جبکہ چھٹے روز کا اسٹیٹس ﴿لَعَلَّھُمْ یَرْشُدُوْنَ﴾ تھا: اس میں آیات صیام کا خلاصہ اس انداز میں پیش کیا گیا؛
خلاصۂ آیت یہ ہوا کہ: احکام شریعت کی خلاف ورزی کرنے والوں کو آپ (ﷺ) کے رو برو ہوکر اپنے گناہ و قصور کا برملا اعتراف و اظہار کرنے اور آپ (ﷺ) سے توبہ و استغفار کی نسبت معلوم کرنے پر جب یہ بتا دیا گیا کہ تمہاری توبہ قبول کر لی گئی ہے اور احکام خداوندی کی اطاعت و فرماں برداری کی تاکید اس طور پر کی گئی ہےکہ:
"حکم سابق کو منسوخ کر اب تمہارے لئے رمضان میں پوری رات صبح صادق سے پہلے تک کھانا وغیرہ حلال کر دیا گیا ہے” تاکہ تم نیک راہ پر آؤ” (گناہوں سے بچے رہو)
یہ ہیں قرآن کی راہنما باتیں؛ کہ اگر ہم روزانہ قرآن کی تلاوت اس طور پر کریں کہ اس کے الفاظ و معانی کو بھی سمجھ سکیں اور غور و تدبر کے واسطے اپنا کچھ وقت بھی فارغ کریں تو یقینا ہماری ذات ہمارے گھرانے اور سماج و معاشرے میں جہاں روحانی اثرات مرتب ہوتے نظر آئیں گے وہیں بےشمار مسائل سے جوجھتی ملت کو چھٹکارا حاصل ہوتا بھی نظر آئےگا۔
0
😃+