مقامی خبریں

پرشاد ہسپتال میں آتشزدگی کے بعد مریضوں کے اہل خانہ کا ہنگامہ، ڈسچارج میں تاخیر پر شدید احتجاج

مظفرپور کے پرشاد ہسپتال میں حالیہ آتشزدگی کے واقعے کے بعد، مریضوں کے اہل خانہ نے ہسپتال انتظامیہ کے خلاف شدید احتجاج کیا ہے۔ ان کا مطالبہ ہے کہ مریضوں کو جلد از جلد ڈسچارج کیا جائے اور ضروری دستاویزات فراہم کی جائیں تاکہ انہیں دوسرے ہسپتالوں میں منتقل کیا جا سکے۔

مریضوں کے اہل خانہ کی پریشانی

جمعہ کے روز ہسپتال کے مرکزی دروازے پر مریضوں کے رشتہ داروں نے جمع ہو کر اپنی ناراضگی کا اظہار کیا۔ چکمُرمر کے رہائشی محمد جاوید نے بتایا کہ ان کے رشتہ دار سڑک حادثے میں زخمی ہونے کے بعد پانچ دنوں سے ہسپتال میں زیر علاج ہیں۔ آتشزدگی کے واقعے کے بعد وہ انہیں کسی اور ہسپتال میں منتقل کرنا چاہتے ہیں، لیکن ہسپتال انتظامیہ ڈسچارج سے متعلق فائل فراہم کرنے میں تاخیر کر رہی ہے۔ جاوید نے یہ بھی الزام لگایا کہ واقعے کے بعد ہسپتال کی صحت خدمات متاثر ہوئی ہیں اور کئی ڈاکٹرز اور پیرا میڈیکل عملہ ڈیوٹی پر نہیں آ رہا ہے۔

کانٹی کے رہائشی سوجے کمار نے بھی ہسپتال انتظامیہ پر عدم تعاون کا الزام لگایا۔ انہوں نے کہا کہ ان کے مریض کا علاج پرشاد ہسپتال میں چل رہا تھا، لیکن آتشزدگی کے بعد انہوں نے اسے دوسرے ہسپتال میں داخل کرانے کا فیصلہ کیا ہے۔ ان کے مطابق، ہسپتال انتظامیہ کی جانب سے تعاون نہ ملنے کی وجہ سے مریضوں اور ان کے اہل خانہ کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

ہسپتال انتظامیہ کے اقدامات اور تحقیقات

صورتحال کو دیکھتے ہوئے، ہسپتال کے مرکزی داخلی دروازے پر نجی سیکیورٹی گارڈز تعینات کر دیے گئے ہیں۔ فی الحال، ہسپتال کے احاطے میں صرف داخل مریضوں، ان کے اہل خانہ اور انتظامی افسران کو ہی داخلے کی اجازت دی جا رہی ہے۔ ہسپتال انتظامیہ بھی نظم و نسق برقرار رکھنے کی کوشش کر رہی ہے تاکہ کسی بھی ناخوشگوار صورتحال سے بچا جا سکے۔

دوسری جانب، سول سرجن ڈاکٹر سدھیر کمار نے پرشاد ہسپتال سے دیگر نجی ہسپتالوں میں منتقل کیے گئے مریضوں کی صحت پر نظر رکھنے کے لیے چار رکنی طبی ٹیم تشکیل دی ہے۔ یہ ٹیم گوبَرساہی کے آشا ہسپتال اور جُورن چھپرا کے اشوکا ہسپتال میں داخل مریضوں کا طبی معائنہ کرے گی اور ایک تفصیلی رپورٹ تیار کرے گی۔ اس تحقیقاتی ٹیم میں ڈاکٹر وبھاش کمار، ڈاکٹر اجیت کمار اور ڈاکٹر پربھات کمار شامل ہیں۔ ٹیم مریضوں کی موجودہ حالت کا جائزہ لے کر محکمہ صحت کو رپورٹ پیش کرے گی۔

پرشاد ہسپتال میں آتشزدگی کی تحقیقات بھی جاری ہیں۔ فائر بریگیڈ اور پولیس انتظامیہ واقعے کی وجوہات، حفاظتی معیارات اور ہسپتال انتظامیہ کے کردار کی چھان بین کر رہی ہے۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ حال ہی میں ہسپتال کے آئی سی یو میں لگنے والی آگ میں چھ مریضوں کی موت ہو گئی تھی، جس کے بعد ہسپتال کے انتظام اور حفاظتی انتظامات پر کئی سوالات اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔


دستبرداری: یہ خبر دستیاب مقامی ذرائع کی بنیاد پر مصنوعی ذہانت (AI) کی مدد سے تیار کی گئی ہے۔ AI سے غلطیاں ممکن ہیں اور اس مواد کی صحت یا اصلیت کی کوئی ضمانت نہیں دی جا سکتی۔ TheAinak صرف معلومات کو یکجا کرتا ہے اور اس کے مواد کا ذمہ دار نہیں ہے۔ قارئین سے گزارش ہے کہ کسی بھی معلومات پر بھروسہ کرنے یا اس پر عمل کرنے سے پہلے اس کی آزادانہ طور پر تصدیق ضرور کر لیں۔

😃+

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button