شراونی میلے کی تیاریاں عروج پر: فقلی موڑ سے بابا غریب ناتھ مندر تک ‘عقیدت مند دوست’ راستہ بنے گا
مظفرپور: شراونی میلے کی آمد کے پیش نظر، ضلع انتظامیہ نے عقیدت مندوں کے لیے سہولیات کو بہتر بنانے کے لیے کمر کس لی ہے۔ ضلع مجسٹریٹ کمار گورو نے حال ہی میں ایک اعلیٰ سطحی جائزہ اجلاس کی صدارت کی، جس میں تمام متعلقہ محکموں کو وقت پر کام مکمل کرنے کی ہدایت دی گئی۔ اس میٹنگ کا بنیادی مقصد میلے کے دوران لاکھوں عقیدت مندوں کو بہترین ممکنہ سہولیات فراہم کرنا تھا۔
ضلع مجسٹریٹ نے خاص طور پر فقلی موڑ سے بابا غریب ناتھ مندر تک کے پورے کانوریا راستے کو ‘عقیدت مند دوست’ بنانے پر زور دیا۔ اس منصوبے کے تحت، راستے میں جگہ جگہ صاف پینے کے پانی کے اسٹال، عارضی بیت الخلا، آرام گاہیں اور ابتدائی طبی امداد کے مراکز قائم کیے جائیں گے۔ رات کے وقت عقیدت مندوں کی نقل و حرکت کو آسان بنانے کے لیے راستے پر مناسب روشنی کا انتظام اور بجلی کی بلا تعطل فراہمی کو بھی یقینی بنایا جائے گا۔ اس کے علاوہ، باقاعدہ صفائی ستھرائی اور کچرے کو ٹھکانے لگانے کے لیے ایک مؤثر نظام بھی وضع کیا جا رہا ہے۔
عقیدت مندوں کی سہولت اولین ترجیح
ضلع مجسٹریٹ نے واضح کیا کہ شراونی میلہ عقیدت اور ایمان کی علامت ہے، جس میں دور دراز سے لاکھوں عقیدت مند شرکت کرتے ہیں۔ ان کی سہولت اور حفاظت انتظامیہ کی اولین ترجیح ہے۔ اس مقصد کے لیے، ایک کنٹرول روم قائم کیا جائے گا، جو 24 گھنٹے فعال رہے گا۔ طبی امداد کے لیے چوبیس گھنٹے طبی کیمپ بھی لگائے جائیں گے۔ ٹریفک کے مؤثر انتظام، امن و امان کی صورتحال کو برقرار رکھنے، پینے کے پانی، بجلی اور صفائی جیسی بنیادی سہولیات کو میلے کے آغاز سے قبل ہی یقینی بنانے کی ہدایات جاری کی گئی ہیں۔
اجلاس میں تمام محکموں کو روزانہ کی بنیاد پر کام کی پیشرفت کی رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا گیا۔ ضلع مجسٹریٹ نے خبردار کیا کہ میلے کے دوران کسی بھی سطح پر لاپرواہی برداشت نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے تمام محکموں پر زور دیا کہ وہ باہمی تال میل کے ساتھ اپنی ذمہ داریاں نبھائیں تاکہ عقیدت مندوں کو ایک محفوظ اور آسان ماحول فراہم کیا جا سکے۔ انتظامیہ کا ہدف ہے کہ شراونی میلے کو پرامن، منظم اور یادگار بنایا جائے، اور اس مقصد کے لیے تمام تر کوششیں جاری ہیں۔
دستبرداری: یہ خبر دستیاب مقامی ذرائع کی بنیاد پر مصنوعی ذہانت (AI) کی مدد سے تیار کی گئی ہے۔ AI سے غلطیاں ممکن ہیں اور اس مواد کی صحت یا اصلیت کی کوئی ضمانت نہیں دی جا سکتی۔ TheAinak صرف معلومات کو یکجا کرتا ہے اور اس کے مواد کا ذمہ دار نہیں ہے۔ قارئین سے گزارش ہے کہ کسی بھی معلومات پر بھروسہ کرنے یا اس پر عمل کرنے سے پہلے اس کی آزادانہ طور پر تصدیق ضرور کر لیں۔
