بی آر اے بی یو میں ہنگامہ: پی ایچ ڈی داخلہ تنازعہ پر طلبا رہنماؤں کے خلاف مقدمہ درج
مظفرپور کی بی آر اے بہار یونیورسٹی (BRABU) میں پی ایچ ڈی داخلہ ٹیسٹ 2023-24 کی میرٹ لسٹ کو لے کر جاری کشیدگی اب قانونی موڑ اختیار کر گئی ہے۔ یونیورسٹی انتظامیہ نے سخت قدم اٹھاتے ہوئے طلبا رہنما چندن یادو اور ان کے ساتھیوں کے خلاف یونیورسٹی تھانے میں ایف آئی آر درج کرائی ہے۔
واقعہ کی تفصیلات
یونیورسٹی کے رجسٹرار سمیر کمار شرما کی جانب سے دی گئی تحریری شکایت کے بعد پولیس نے یہ کارروائی کی ہے۔ ایف آئی آر میں الزام لگایا گیا ہے کہ طلبا رہنماؤں کا ایک گروپ بغیر کسی پیشگی اجازت کے وائس چانسلر کی رہائش گاہ میں داخل ہوا اور وہاں موجود حکام کے ساتھ بدتمیزی کی۔ انتظامیہ کا دعویٰ ہے کہ ان طلبا نے نہ صرف غیر اخلاقی زبان کا استعمال کیا بلکہ یونیورسٹی کے نظم و ضبط کو بھی شدید نقصان پہنچایا۔ تھانہ انچارج سبیتا کماری نے تصدیق کی ہے کہ شکایت موصول ہونے کے بعد مقدمہ درج کر کے معاملے کی تفتیش شروع کر دی گئی ہے۔
تنازعہ کی اصل وجہ
یہ پورا تنازعہ پی ایچ ڈی داخلہ ٹیسٹ کی میرٹ لسٹ کے اجراء کے بعد شروع ہوا۔ طلبا تنظیموں کا ایک بڑا طبقہ اس لسٹ کو مشکوک قرار دے رہا ہے۔ طلبا کا الزام ہے کہ میرٹ لسٹ کی تیاری میں بڑے پیمانے پر بے ضابطگیاں ہوئی ہیں اور میرٹ کو نظر انداز کیا گیا ہے۔ دوسری جانب یونیورسٹی انتظامیہ اپنے موقف پر قائم ہے اور داخلہ عمل کو مکمل طور پر شفاف اور ضوابط کے مطابق قرار دے رہی ہے۔
احتجاج کا سلسلہ
گزشتہ کئی دنوں سے یونیورسٹی کیمپس میں طلبا کا احتجاج جاری ہے۔ ہفتہ کے روز جب طلبا رہنماؤں نے وائس چانسلر سے ملاقات کے لیے ان کی رہائش گاہ کا رخ کیا، تو صورتحال کشیدہ ہو گئی۔ طلبا کا کہنا ہے کہ وہ اپنے جائز حقوق کے لیے آواز اٹھا رہے ہیں، جبکہ انتظامیہ اسے دباؤ کی سیاست قرار دے رہی ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ پولیس کی تفتیش اور انتظامیہ کی اس سخت کارروائی کے بعد طلبا تنظیموں کا اگلا قدم کیا ہوتا ہے۔ فی الحال یونیورسٹی کیمپس میں ماحول کافی تناؤ کا شکار ہے اور انتظامیہ نے سیکیورٹی کے انتظامات سخت کر دیے ہیں۔
دستبرداری: یہ خبر دستیاب مقامی ذرائع کی بنیاد پر مصنوعی ذہانت (AI) کی مدد سے تیار کی گئی ہے۔ AI سے غلطیاں ممکن ہیں اور اس مواد کی صحت یا اصلیت کی کوئی ضمانت نہیں دی جا سکتی۔ TheAinak صرف معلومات کو یکجا کرتا ہے اور اس کے مواد کا ذمہ دار نہیں ہے۔ قارئین سے گزارش ہے کہ کسی بھی معلومات پر بھروسہ کرنے یا اس پر عمل کرنے سے پہلے اس کی آزادانہ طور پر تصدیق ضرور کر لیں۔
