مظفرپور: پرساد ہسپتال میں آتشزدگی، آئی سی یو کی گنجائش سے زیادہ بستروں نے کھڑے کیے سوالات
حفاظتی ضابطوں کی سنگین خلاف ورزی
مظفرپور کے پرساد ہسپتال میں پیش آنے والے آتشزدگی کے المناک واقعے نے شہر کے نجی ہسپتالوں میں مریضوں کی حفاظت اور انتظامی غفلت کو ایک بار پھر مرکزِ بحث بنا دیا ہے۔ ابتدائی تحقیقات سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ ہسپتال کی پانچویں منزل پر واقع آئی سی یو (ICU) یونٹ کو غیر قانونی طور پر توسیع دی گئی تھی۔ پندرہ بستروں کی گنجائش والے اس وارڈ کو بغیر کسی مناسب اجازت اور حفاظتی انتظامات کے 30 بستروں تک بڑھا دیا گیا تھا، جس نے مریضوں کی جان کو خطرے میں ڈال دیا۔
آگ کا خطرہ اور طبی آلات
ماہرین کا کہنا ہے کہ آئی سی یو جیسے حساس شعبے میں جہاں زندگی بچانے والے آلات کا استعمال ہوتا ہے، وہاں آگ لگنے کا خطرہ بہت زیادہ ہوتا ہے۔ ہسپتال میں استعمال ہونے والے آکسیجن سپلائی پائپ، وینٹیلیشن کی نالیاں اور مانیٹرنگ کے آلات بڑی حد تک پلاسٹک سے بنے ہوتے ہیں، جو آگ پکڑنے کی صورت میں زہریلی گیسوں اور تیزی سے پھیلنے والی لپٹوں کا سبب بنتے ہیں۔ ہسپتال کی جانب سے ان نازک حالات کے پیش نظر جدید فائر فائٹنگ سسٹم، اسپرنکلر اور ہنگامی انخلا کے راستوں کی عدم موجودگی نے انتظامیہ کی لاپرواہی کو بے نقاب کر دیا ہے۔
انتظامی کارروائی کا آغاز
واقعے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے ضلعی انتظامیہ نے تحقیقات کا دائرہ وسیع کر دیا ہے۔ کمشنر نے ہسپتال کے مالکان اور انتظامیہ کے خلاف فوری طور پر ایف آئی آر درج کرنے کے احکامات جاری کر دیے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس بات کی تفتیش کی جا رہی ہے کہ بغیر اجازت بستروں کی تعداد میں اضافہ کیسے کیا گیا اور حفاظتی سرٹیفکیٹ کے بغیر ہسپتال کیسے چلایا جا رہا تھا۔
متاثرین کا غم و غصہ
یہ واقعہ صرف ایک حادثہ نہیں بلکہ سسٹم کی ناکامی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ ہسپتال میں علاج کے لیے آنے والے مریضوں کے لواحقین اب سوال کر رہے ہیں کہ کیا نجی ہسپتالوں میں منافع کمانے کی دوڑ میں انسانی جانوں کی کوئی قیمت نہیں؟ اس واقعے کے بعد شہر کے دیگر ہسپتالوں میں بھی حفاظتی انتظامات کا آڈٹ کرنے کا مطالبہ زور پکڑ رہا ہے۔ انتظامیہ کی جانب سے سخت کارروائی کا وعدہ کیا گیا ہے، لیکن سوال یہ ہے کہ کیا یہ اقدامات مستقبل میں ایسے واقعات کو روکنے کے لیے کافی ہوں گے؟
دستبرداری: یہ خبر دستیاب مقامی ذرائع کی بنیاد پر مصنوعی ذہانت (AI) کی مدد سے تیار کی گئی ہے۔ AI سے غلطیاں ممکن ہیں اور اس مواد کی صحت یا اصلیت کی کوئی ضمانت نہیں دی جا سکتی۔ TheAinak صرف معلومات کو یکجا کرتا ہے اور اس کے مواد کا ذمہ دار نہیں ہے۔ قارئین سے گزارش ہے کہ کسی بھی معلومات پر بھروسہ کرنے یا اس پر عمل کرنے سے پہلے اس کی آزادانہ طور پر تصدیق ضرور کر لیں۔
