مظفرپور کے پرشاد ہسپتال میں ہولناک آتشزدگی: 3 افراد ہلاک، مریضوں میں بھگدڑ
مظفرپور میں ہسپتال کا آئی سی یو جل کر راکھ، انتظامیہ کی غفلت پر سوالات
مظفرپور کے برہمپورہ تھانہ علاقہ میں واقع پرشاد ہسپتال میں جمعرات کی صبح پیش آنے والے ایک المناک حادثے نے پورے شہر کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ ہسپتال کے آئی سی یو وارڈ میں اچانک لگنے والی آگ نے تین قیمتی جانیں نگل لیں، جبکہ متعدد مریض شدید زخمی ہوئے ہیں۔
واقعہ کی تفصیلات کے مطابق، صبح تقریباً 3 بجے ہسپتال کے آئی سی یو یونٹ میں شارٹ سرکٹ کے باعث آگ بھڑکی۔ دیکھتے ہی دیکھتے آگ نے ہسپتال کے بڑے حصے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا اور زہریلا دھواں پورے وارڈ میں پھیل گیا، جس کی وجہ سے مریضوں کا دم گھٹنے لگا۔
فائر بریگیڈ کی ایک درجن سے زائد گاڑیاں موقع پر پہنچیں اور کئی گھنٹوں کی مشقت کے بعد آگ پر قابو پایا گیا۔ ریسکیو ٹیموں نے 20 سے زائد مریضوں کو بحفاظت باہر نکالا، جنہیں علاج کے لیے قریبی ہسپتالوں میں منتقل کر دیا گیا ہے۔
انتظامیہ کی لاپرواہی اور سوالات
ضلع مجسٹریٹ سبرت کمار سین نے تصدیق کی ہے کہ اس حادثے میں تین افراد کی موت ہوئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ابتدائی تحقیقات سے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ آکسیجن یونٹ اور مانیٹرنگ سسٹم میں شارٹ سرکٹ کی وجہ سے یہ آگ لگی۔ تاہم، ہسپتال کے عملے کی جانب سے لاپرواہی کے سنگین الزامات بھی سامنے آئے ہیں۔
متاثرین کے لواحقین کا کہنا ہے کہ آگ لگنے کے فوراً بعد ہسپتال کا عملہ جائے وقوعہ سے غائب ہو گیا، جس کی وجہ سے مریضوں کو نکالنے میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ آئی سی یو انچارج خود بھی اس حادثے میں شدید زخمی ہوئے ہیں اور زیر علاج ہیں۔
- حادثہ صبح 3 بجے کے قریب پیش آیا۔
- آئی سی یو وارڈ مکمل طور پر تباہ ہو چکا ہے۔
- لواحقین نے ہسپتال انتظامیہ پر لاشیں نہ دینے اور غفلت برتنے کا الزام لگایا ہے۔
- ضلعی انتظامیہ نے واقعے کی مکمل تحقیقات کا حکم دے دیا ہے۔
فی الحال انتظامیہ لاپتہ مریضوں کی تلاش اور ہسپتال میں موجود ریکارڈ کی جانچ کر رہی ہے تاکہ یہ تعین کیا جا سکے کہ حادثے کے وقت کتنے مریض زیر علاج تھے۔ یہ واقعہ ہسپتالوں میں حفاظتی انتظامات کے فقدان پر ایک بڑا سوالیہ نشان کھڑا کرتا ہے۔
دستبرداری: یہ خبر دستیاب مقامی ذرائع کی بنیاد پر مصنوعی ذہانت (AI) کی مدد سے تیار کی گئی ہے۔ AI سے غلطیاں ممکن ہیں اور اس مواد کی صحت یا اصلیت کی کوئی ضمانت نہیں دی جا سکتی۔ TheAinak صرف معلومات کو یکجا کرتا ہے اور اس کے مواد کا ذمہ دار نہیں ہے۔ قارئین سے گزارش ہے کہ کسی بھی معلومات پر بھروسہ کرنے یا اس پر عمل کرنے سے پہلے اس کی آزادانہ طور پر تصدیق ضرور کر لیں۔
