مظفرپور: اسکول کے قریب بند مکان سے 222 لیٹر سے زائد غیر ملکی شراب برآمد
اورائی میں پولیس کی بڑی کارروائی
مظفرپور ضلع کے اورائی تھانہ علاقہ میں پولیس نے ایک بڑی کامیابی حاصل کرتے ہوئے بھاری مقدار میں غیر ملکی شراب ضبط کی ہے۔ یہ کارروائی شاہی میناپور کنیا ہائی اسکول کے قریب ایک ویران پڑے مکان میں کی گئی، جہاں شراب کا ذخیرہ چھپا کر رکھا گیا تھا۔ خفیہ اطلاع ملنے کے بعد پولیس ٹیم نے فوری طور پر موقع پر پہنچ کر چھاپہ ماری کی، جس کے نتیجے میں غیر قانونی شراب کا یہ بڑا کھیپ پکڑا گیا۔
اسکول کے قریب شراب کا گودام
حیرت کی بات یہ ہے کہ جس مکان سے یہ شراب برآمد ہوئی ہے، وہ اسکول کے احاطے سے محض 200 میٹر کی دوری پر واقع ہے۔ اسکول جیسی تعلیمی جگہ کے اتنے قریب شراب کا ذخیرہ ملنا علاقے میں تشویش کا باعث بنا ہوا ہے۔ پولیس کی تلاشی کے دوران مکان کے باتھ روم سے شراب کی کل 341 بوتلیں برآمد کی گئیں۔ ان بوتلوں میں مختلف برانڈز شامل ہیں، جن میں ایم سی ڈوویلز اور رائل اسٹیج جیسی مہنگی شراب کی بوتلیں شامل ہیں۔ مجموعی طور پر برآمد شدہ شراب کی مقدار 222.75 لیٹر بتائی گئی ہے۔
تحقیقات کا دائرہ وسیع
اورائی تھانہ کی انچارج ہیم لتا کماری نے بتایا کہ اس معاملے کی گہرائی سے تفتیش کی جا رہی ہے۔ پولیس اب اس بات کا پتہ لگانے میں مصروف ہے کہ اس مکان کا مالک کون ہے اور اس غیر قانونی دھندے کے پیچھے کن لوگوں کا ہاتھ ہے۔ ابتدائی تفتیش سے یہ اشارہ مل رہا ہے کہ یہ کسی منظم گروہ کا کام ہو سکتا ہے۔ پولیس نے کچھ مشتبہ افراد کی نشاندہی بھی کی ہے اور ان کی سرگرمیوں پر کڑی نظر رکھی جا رہی ہے۔
کارروائی کا عزم
مقامی پولیس کا کہنا ہے کہ اس پورے نیٹ ورک کو بے نقاب کرنے کے لیے ٹھوس شواہد اکٹھے کیے جا رہے ہیں۔ جلد ہی اس غیر قانونی کاروبار میں ملوث تمام ملزمان کو گرفتار کر لیا جائے گا۔ اس کارروائی کو علاقے میں شراب مافیا کے خلاف ایک بڑی کامیابی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جس سے مقامی باشندوں نے بھی راحت کی سانس لی ہے۔ پولیس نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ اس طرح کی غیر قانونی سرگرمیوں کی اطلاع فوری طور پر قریبی تھانے کو دیں۔
دستبرداری: یہ خبر دستیاب مقامی ذرائع کی بنیاد پر مصنوعی ذہانت (AI) کی مدد سے تیار کی گئی ہے۔ AI سے غلطیاں ممکن ہیں اور اس مواد کی صحت یا اصلیت کی کوئی ضمانت نہیں دی جا سکتی۔ TheAinak صرف معلومات کو یکجا کرتا ہے اور اس کے مواد کا ذمہ دار نہیں ہے۔ قارئین سے گزارش ہے کہ کسی بھی معلومات پر بھروسہ کرنے یا اس پر عمل کرنے سے پہلے اس کی آزادانہ طور پر تصدیق ضرور کر لیں۔
