مقامی خبریں

مظفرپور: سابق وائس چانسلر کی بیٹی کی لوٹی ہوئی چین برآمد، لیکن قیمتی ہیرا غائب

نول کشور نگر میں پیش آیا تھا واقعہ

مظفرپور کے صدر تھانہ علاقہ کے نول کشور نگر میں پیش آئے ایک پرانے مجرمانہ واقعہ میں پولیس کو بڑی کامیابی ملی ہے۔ پانچ ماہ قبل ایک سابق وائس چانسلر کی بیٹی، جو کہ پیشے سے ایک استانی ہیں، ان سے دن دہاڑے لوٹی گئی سونے کی چین پولیس نے بازیاب کر لی ہے۔ اس بازیابی کے بعد متاثرہ خاتون کو قانونی کارروائی مکمل کرنے کے بعد ان کی ملکیت واپس سونپ دی گئی ہے۔

کیا تھا پورا معاملہ؟

یہ واقعہ 19 فروری کی شام کو پیش آیا تھا۔ استانی ریما کماری جب اپنے اسکول سے تدریسی فرائض انجام دے کر گھر لوٹ رہی تھیں، تبھی نول کشور نگر کے نزدیک بائیک سوار دو نامعلوم بدمعاشوں نے ان کا راستہ روکا اور جھپٹا مار کر ان کے گلے سے سونے کی چین چھین لی۔ اس واردات کے بعد علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا تھا اور متاثرہ خاتون نے فوری طور پر صدر تھانہ میں ایف آئی آر درج کرائی تھی۔

پولیس کی تفتیش اور کوڑھا گینگ کا کنکشن

واقعہ کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے ایس ڈی پی او ونینتا سنہا کی قیادت میں ایک خصوصی ٹیم تشکیل دی گئی تھی۔ پولیس نے جب جائے وقوعہ کے آس پاس لگے سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج کی جانچ کی تو اس میں بدنام زمانہ ‘کوڑھا گینگ’ کے ملوث ہونے کے ثبوت ملے۔ پولیس نے تکنیکی جانچ اور خفیہ معلومات کی بنیاد پر کٹیہار ضلع کے کوڑھا تھانہ علاقہ کے جراب گنج میں چھاپہ مارا، جہاں سے لوٹی گئی سونے کی چین برآمد کر لی گئی۔

ہیرا غائب ہونے پر مایوسی

اگرچہ پولیس نے چین برآمد کر لی ہے، لیکن متاثرہ خاتون نے اس پر ملے جلے جذبات کا اظہار کیا ہے۔ ریما کماری نے بتایا کہ برآمد شدہ چین کی قیمت تقریباً ڈیڑھ لاکھ روپے ہے، لیکن اس میں جڑا ہوا قیمتی ہیرا، جس کی مالیت دو لاکھ روپے کے قریب تھی، غائب ہے۔ بدمعاشوں نے چین سے ہیرا نکال لیا ہے۔ انہوں نے پولیس سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ جلد از جلد مفرور ملزمان کو گرفتار کرے اور ہیرے کی بھی بازیابی یقینی بنائے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ملزمان کی شناخت کر لی گئی ہے اور ان کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔


دستبرداری: یہ خبر دستیاب مقامی ذرائع کی بنیاد پر مصنوعی ذہانت (AI) کی مدد سے تیار کی گئی ہے۔ AI سے غلطیاں ممکن ہیں اور اس مواد کی صحت یا اصلیت کی کوئی ضمانت نہیں دی جا سکتی۔ TheAinak صرف معلومات کو یکجا کرتا ہے اور اس کے مواد کا ذمہ دار نہیں ہے۔ قارئین سے گزارش ہے کہ کسی بھی معلومات پر بھروسہ کرنے یا اس پر عمل کرنے سے پہلے اس کی آزادانہ طور پر تصدیق ضرور کر لیں۔

😃+

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button