مظفر پور: سرैया کو سول سب ڈویژن کا درجہ دینے کا مطالبہ زور پکڑ گیا
سرैया کے باشندوں کی دیرینہ مانگ
ضلع مظفر پور کے سرैया بلاک کو سول سب ڈویژن (سول انومنڈل) کا درجہ دلانے کے لیے مقامی سطح پر آوازیں بلند ہونے لگی ہیں۔ سرैया یوتھ گروپ کے زیر اہتمام منعقدہ ایک اہم اجلاس میں اس مطالبے کو دہرایا گیا اور حکام تک اپنی بات پہنچانے کے لیے باقاعدہ مہم شروع کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔
انتظامی اور جغرافیائی اہمیت
اجلاس کے شرکاء نے اس بات پر زور دیا کہ سرैया نہ صرف تاریخی اور جغرافیائی اعتبار سے بلکہ انتظامی نقطہ نظر سے بھی ایک کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔ یہاں کی بڑھتی ہوئی آبادی اور وسیع رقبے کو دیکھتے ہوئے اسے ایک الگ سول سب ڈویژن بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ شرکاء کا کہنا تھا کہ سرैया پہلے ہی کئی اہم سرکاری دفاتر کا مرکز ہے، جس کی وجہ سے یہاں کے شہریوں کو بنیادی انتظامی سہولیات کے لیے دوسرے علاقوں پر انحصار نہیں کرنا چاہیے۔
موجودہ سہولیات اور درپیش مسائل
سرैया میں پہلے سے ہی درج ذیل اہم سرکاری دفاتر کام کر رہے ہیں:
- ایس ڈی پی او (SDPO) دفتر
- بجلی سپلائی اور ڈویژنل آفس
- محکمہ آبی وسائل اور نکاسی آب کا سب ڈویژن
- مرکزی آبی کمیشن کی ہائیڈرولوجیکل آبزرویشن سائٹ
- آر ای او اور پی ایچ ڈی (PHED) کے سب ڈویژنل دفاتر
ان تمام دفاتر کی موجودگی کے باوجود، مقامی لوگوں کو اپنے چھوٹے چھوٹے کاموں کے لیے دوسرے سب ڈویژنوں کے چکر کاٹنے پڑتے ہیں۔ یوتھ گروپ کے مطابق، سرैया پولیس سب ڈویژن کے تحت پہلے ہی چار بلاکس (سرैया، پارو، صاحب گنج اور مڑون) آتے ہیں، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ علاقہ انتظامی مرکز بننے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے۔
آئندہ کا لائحہ عمل
یوتھ گروپ کے ارکان نے مقامی رکن اسمبلی شنکر پرساد یادو سے ملاقات کر کے انہیں ایک میمورنڈم سونپا ہے۔ اس کے علاوہ، ضلعی مجسٹریٹ اور چیف سیکریٹری کو بھی ای میل کے ذریعے اس مطالبے سے آگاہ کیا گیا ہے۔ یاد رہے کہ ماضی میں بھی ضلعی انتظامیہ کی جانب سے نئے سب ڈویژنوں کے قیام کی سفارش کی گئی تھی، لیکن اس پر اب تک کوئی عملی پیش رفت نہیں ہو سکی ہے۔ مقامی لوگ اب حکومت سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ عوامی مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے اس تجویز پر جلد از جلد فیصلہ لیا جائے۔
دستبرداری: یہ خبر دستیاب مقامی ذرائع کی بنیاد پر مصنوعی ذہانت (AI) کی مدد سے تیار کی گئی ہے۔ AI سے غلطیاں ممکن ہیں اور اس مواد کی صحت یا اصلیت کی کوئی ضمانت نہیں دی جا سکتی۔ TheAinak صرف معلومات کو یکجا کرتا ہے اور اس کے مواد کا ذمہ دار نہیں ہے۔ قارئین سے گزارش ہے کہ کسی بھی معلومات پر بھروسہ کرنے یا اس پر عمل کرنے سے پہلے اس کی آزادانہ طور پر تصدیق ضرور کر لیں۔
