مقامی خبریں

ہتھوڑی بازار میں چائے کی دکان پر چھاپہ: 238 گرام گانجہ برآمد، دکاندار گرفتار

مظفرپور ضلع کے ہتھوڑی بازار میں ایک چائے اور ناشتے کی دکان پر پولیس کی کارروائی نے علاقے میں ہلچل مچا دی ہے۔ پولیس نے خفیہ اطلاع پر کارروائی کرتے ہوئے دکان سے 238 گرام گانجہ برآمد کیا اور دکان کے مالک کو گرفتار کر لیا۔ یہ واقعہ ہتھوڑی تھانہ علاقے میں پیش آیا جہاں منشیات کی خرید و فروخت کی خفیہ اطلاعات پولیس کو موصول ہو رہی تھیں۔

گرفتار شدہ شخص کی شناخت 52 سالہ نریش کمار سنگھ کے طور پر ہوئی ہے، جو ہتھوڑی تھانہ علاقے کے سہیلا رام پور گاؤں کے رہائشی اور مرحوم سکھ دیو سنگھ کے بیٹے ہیں۔ نریش کمار سنگھ ہتھوڑی بازار میں اپنی چائے اور ناشتے کی دکان چلاتے تھے، جس کے بارے میں پولیس کو شک تھا کہ اسے منشیات کی اسمگلنگ کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔

پولیس کی کارروائی اور تفتیش

پولیس کو یہ خفیہ اطلاع ملی تھی کہ نریش کمار سنگھ کی دکان سے منشیات کی خرید و فروخت کی جا رہی ہے۔ اس اطلاع کی تصدیق کے بعد، ہتھوڑی تھانہ پولیس نے فوری طور پر ایک ٹیم تشکیل دی اور دکان پر چھاپہ مارا۔ تلاشی کے دوران، پولیس کو دکان سے 238 گرام گانجہ ملا، جس کے بعد نریش کمار سنگھ کو موقع پر ہی گرفتار کر لیا گیا۔

گرفتاری کے بعد، ملزم کو تھانے لایا گیا جہاں اس سے تفصیلی پوچھ گچھ کی گئی۔ ہتھوڑی تھانہ انچارج ستیہ نارائن شرما نے اس معاملے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ خفیہ اطلاع کی بنیاد پر یہ کارروائی کی گئی اور گانجہ برآمد کیا گیا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ ملزم کے خلاف این ڈی پی ایس ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔

عدالتی کارروائی اور مزید تحقیقات

جمعہ کے روز، گرفتار شدہ ملزم نریش کمار سنگھ کا بوچاہاں کے کمیونٹی ہیلتھ سینٹر میں طبی معائنہ کرایا گیا۔ طبی معائنے کے بعد، اسے عدالتی حراست میں بھیج دیا گیا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ اس معاملے میں مزید تحقیقات جاری ہیں اور تمام ضروری قانونی کارروائیاں کی جا رہی ہیں۔ اس کارروائی سے علاقے میں منشیات کے کاروبار میں ملوث افراد کو ایک سخت پیغام ملا ہے۔

پولیس حکام نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ منشیات سے متعلق کسی بھی قسم کی معلومات کو پولیس کے ساتھ شیئر کریں تاکہ ایسے غیر قانونی کاروبار کو روکا جا سکے۔ ہتھوڑی بازار میں اس چھاپے نے مقامی لوگوں میں منشیات کے پھیلاؤ پر تشویش کو بڑھا دیا ہے اور پولیس کی اس کارروائی کو سراہا جا رہا ہے۔


دستبرداری: یہ خبر دستیاب مقامی ذرائع کی بنیاد پر مصنوعی ذہانت (AI) کی مدد سے تیار کی گئی ہے۔ AI سے غلطیاں ممکن ہیں اور اس مواد کی صحت یا اصلیت کی کوئی ضمانت نہیں دی جا سکتی۔ TheAinak صرف معلومات کو یکجا کرتا ہے اور اس کے مواد کا ذمہ دار نہیں ہے۔ قارئین سے گزارش ہے کہ کسی بھی معلومات پر بھروسہ کرنے یا اس پر عمل کرنے سے پہلے اس کی آزادانہ طور پر تصدیق ضرور کر لیں۔

😃+

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button