مظفرپور: پرشاد ہسپتال کا لائسنس منسوخ، 6 مریضوں کی موت کے بعد انتظامیہ کا سخت ایکشن
مظفرپور میں ہسپتال کی سنگین لاپرواہی، چھ زندگیاں نذرِ آتش
مظفرپور کے برہم پورہ علاقے میں واقع پرشاد ہسپتال میں پیش آئے المناک آتشزدگی کے واقعے کے بعد ضلعی انتظامیہ نے سخت کارروائی کرتے ہوئے ہسپتال کا لائسنس منسوخ کر دیا ہے۔ اس حادثے میں آئی سی یو میں زیر علاج چھ مریضوں کی موت نے پورے شہر کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔
واقعہ کی تفصیلات
یہ اندوہناک واقعہ 4 جون کی صبح تقریباً 3:20 بجے پیش آیا۔ ابتدائی تحقیقات کے مطابق، آئی سی یو میں لگے ایئر کنڈیشنر میں شارٹ سرکٹ کے باعث آگ بھڑکی، جس نے دیکھتے ہی دیکھتے پورے وارڈ کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ ہسپتال میں حفاظتی انتظامات کی شدید کمی کے باعث مریضوں کو بروقت باہر نکالنا ناممکن ہو گیا، جس کے نتیجے میں چھ افراد کی موت واقع ہو گئی۔ حادثے کے وقت وہاں موجود دیگر 18 مریضوں کو فوری طور پر دوسرے ہسپتالوں میں منتقل کیا گیا۔
انتظامیہ کی غفلت اور گرفتاری
تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ ہسپتال انتظامیہ کی جانب سے مریضوں کی حفاظت کے حوالے سے مجرمانہ غفلت برتی گئی۔ سٹی ایس پی محب اللہ انصاری نے تصدیق کی ہے کہ جس وقت حادثہ پیش آیا، آئی سی یو میں تعینات ڈاکٹر پنکج اپنی ڈیوٹی سے غائب تھے۔ اس کے علاوہ، مینٹیننس مینیجر اجیت کمار نے طویل عرصے سے اے سی کی سروس نہیں کرائی تھی، جو اس سانحے کی بنیادی وجہ بنی۔ پولیس نے ڈاکٹر پنکج، ایڈمن مینیجر رام کمار اور مینٹیننس مینیجر اجیت کمار کو گرفتار کیا تھا، تاہم قانونی ضابطوں کے تحت انہیں بعد میں ضمانت پر رہا کر دیا گیا۔
آئندہ کا لائحہ عمل
سول سرجن ڈاکٹر سدھیر کمار نے اپنی رپورٹ میں واضح کیا ہے کہ ہسپتال میں آگ سے بچاؤ کے کسی بھی معیار پر عمل نہیں کیا گیا تھا۔ انتظامیہ کو سات دنوں کے اندر تمام دستاویزات پیش کرنے اور وضاحت دینے کا حکم دیا گیا ہے۔ ضلعی انتظامیہ اب اس بات کی بھی جانچ کر رہی ہے کہ آیا ہسپتال کی عمارت کی تعمیر اور فائر سیفٹی کے ضوابط میں کوئی اور خلاف ورزی تو نہیں کی گئی۔ اس سانحے نے نجی ہسپتالوں میں مریضوں کی حفاظت کے معیار پر ایک بڑا سوالیہ نشان کھڑا کر دیا ہے۔
دستبرداری: یہ خبر دستیاب مقامی ذرائع کی بنیاد پر مصنوعی ذہانت (AI) کی مدد سے تیار کی گئی ہے۔ AI سے غلطیاں ممکن ہیں اور اس مواد کی صحت یا اصلیت کی کوئی ضمانت نہیں دی جا سکتی۔ TheAinak صرف معلومات کو یکجا کرتا ہے اور اس کے مواد کا ذمہ دار نہیں ہے۔ قارئین سے گزارش ہے کہ کسی بھی معلومات پر بھروسہ کرنے یا اس پر عمل کرنے سے پہلے اس کی آزادانہ طور پر تصدیق ضرور کر لیں۔
