مقامی خبریں

موتی پور: مہول میں سیمنٹ فیکٹری کے قیام کے خلاف عوامی بغاوت، مہاپنچایت میں سخت انتباہ

مہول گاؤں کے باشندوں کا احتجاج

ضلع مظفرپور کے موتی پور بلاک کے تحت آنے والے مہول گاؤں میں سیمنٹ فیکٹری لگانے کے حکومتی فیصلے کے خلاف مقامی آبادی سراپا احتجاج ہے۔ اتوار کے روز کرشن نندن سہنی کی صدارت میں منعقدہ ایک بڑی مہاپنچایت میں گاؤں والوں نے متفقہ طور پر اس منصوبے کو مسترد کر دیا ہے۔ مقامی لوگوں کا ماننا ہے کہ اس فیکٹری کا قیام نہ صرف ان کے زرعی مستقبل کو تباہ کر دے گا بلکہ ماحولیاتی توازن کو بھی بری طرح متاثر کرے گا۔

ماحولیاتی اور صحت کے خدشات

مہاپنچایت میں شریک مقامی افراد اور سماجی کارکنوں نے اپنے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سیمنٹ فیکٹری سے خارج ہونے والا زہریلا دھواں اور گرد و غبار سانس کی بیماریوں کا سبب بنے گا۔ اس کے علاوہ، فیکٹری سے نکلنے والا کیمیائی مادہ زمین کی زرخیزی کو ختم کر دے گا اور زیر زمین پانی کی سطح کو بھی آلودہ کر دے گا۔ آر جے ڈی کے ریاستی صدر راہول صراف نے بھی اس احتجاج کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ عوامی صحت اور زرعی زمین کی قیمت پر کسی بھی صنعتی منصوبے کو قبول نہیں کیا جائے گا۔

متبادل صنعت کی مانگ

مظاہرین کا مطالبہ ہے کہ حکومت سیمنٹ فیکٹری کے بجائے کوئی ایسی صنعت لگائے جو آلودگی سے پاک ہو اور جس سے مقامی لوگوں کو روزگار کے مواقع مل سکیں۔ گاؤں والوں نے حکومت پر الزام عائد کیا کہ وہ دیہی آبادی کی زندگیوں کو خطرے میں ڈال کر ترقی کے نام پر کھلواڑ کر رہی ہے۔

آئندہ کا لائحہ عمل

احتجاج کو منظم کرنے کے لیے ایک خصوصی کمیٹی تشکیل دی گئی ہے جو حکومت پر دباؤ ڈالنے کے لیے مرحلہ وار تحریک چلائے گی۔ مہاپنچایت میں بھاگیہ نارائن پرساد، رمیش کشواہا، رام پکار ساہ، وبپن کمار، نبھا کماری، اروند شاستری، روی چورسیا، ونیت شریواستو، وجے کشواہا، دھنراج سہنی، وکاس پٹیل، ششی پٹیل، سنجے مشرا، روی رنجن ورما، بندا سنگھ، دیویندر نرالا اور منیش اوجھا سمیت بڑی تعداد میں مقامی معززین موجود تھے۔ شرکاء نے واضح کر دیا ہے کہ اگر ان کے مطالبات کو نظر انداز کیا گیا تو احتجاج کا دائرہ کار مزید وسیع کیا جائے گا۔


دستبرداری: یہ خبر دستیاب مقامی ذرائع کی بنیاد پر مصنوعی ذہانت (AI) کی مدد سے تیار کی گئی ہے۔ AI سے غلطیاں ممکن ہیں اور اس مواد کی صحت یا اصلیت کی کوئی ضمانت نہیں دی جا سکتی۔ TheAinak صرف معلومات کو یکجا کرتا ہے اور اس کے مواد کا ذمہ دار نہیں ہے۔ قارئین سے گزارش ہے کہ کسی بھی معلومات پر بھروسہ کرنے یا اس پر عمل کرنے سے پہلے اس کی آزادانہ طور پر تصدیق ضرور کر لیں۔

😃+

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button