مظفرپور: اکھاڑا گھاٹ پُل سے خاتون کی چھلانگ، دریا میں بہہ کر المناک موت
مظفرپور شہر کے اکھاڑا گھاٹ پُل پر ایک دل دہلا دینے والا واقعہ پیش آیا جہاں ایک نامعلوم خاتون نے اُفنتی ندی میں چھلانگ لگا کر خودکشی کر لی۔ اس افسوسناک واقعے نے پُل پر موجود راہگیروں اور مقامی افراد میں خوف و ہراس پھیلا دیا۔
عینی شاہدین کے مطابق، خاتون پُل کی ریلنگ کے قریب پہنچی اور اچانک تیز بہاؤ والی ندی میں کود گئی۔ پانی کا بہاؤ اتنا تیز تھا کہ اسے بچانے کا کوئی موقع نہیں مل سکا اور وہ فوراً لہروں کے ساتھ بہنے لگی۔
واقعے کی تفصیلات
جس وقت یہ واقعہ پیش آیا، ندی کا پانی کافی بڑھا ہوا تھا۔ پُل سے چھلانگ لگانے کے بعد خاتون تقریباً ایک کلومیٹر تک ندی کے تیز دھارے میں بے بسی کے عالم میں بہتی رہی۔ عینی شاہدین نے اسے بچانے کی کوشش کی لیکن پانی کی رفتار بہت زیادہ تھی۔ کچھ دیر تک پانی کی سطح پر نظر آنے کے بعد وہ اچانک گہرے پانی میں ڈوب گئی، جس کے نتیجے میں دم گھٹنے سے اس کی موقع پر ہی موت ہو گئی۔
ندی میں خاتون کے کودنے کی اطلاع ملتے ہی مقامی لوگ اور ندی کنارے رہنے والے ماہی گیر فوراً حرکت میں آئے۔ ماہی گیروں نے اپنی کشتیوں کے ذریعے ندی کی تیز لہروں کے درمیان خاتون کی تلاش شروع کی۔ کافی جدوجہد اور سخت تلاش کے بعد بالآخر ماہی گیروں نے ندی سے خاتون کی بے جان لاش کو نکالنے میں کامیابی حاصل کی۔
پولیس کی کارروائی
واقعے کی اطلاع ملنے پر پولیس فوراً موقع پر پہنچی اور لاش کو اپنی تحویل میں لے کر ضروری کاغذی کارروائی مکمل کی۔ اس کے بعد پولیس نے لاش کو پوسٹ مارٹم کے لیے شری کرشن میڈیکل کالج اینڈ ہسپتال (SKMCH) بھیج دیا ہے۔
پولیس حکام نے بتایا کہ متوفیہ کی اب تک شناخت نہیں ہو سکی ہے۔ لاش کی شناخت کرانے کے لیے ضلع کے تمام تھانوں کو اطلاع بھیجی گئی ہے اور حالیہ گمشدگی کے معاملات کا موازنہ کیا جا رہا ہے۔ پولیس اس معاملے کی مزید تحقیقات کر رہی ہے تاکہ خاتون کی شناخت اور اس کے خودکشی کے پیچھے کی وجوہات کا پتہ لگایا جا سکے۔ یہ واقعہ مظفرپور میں ایک بار پھر ذہنی صحت اور سماجی مسائل پر توجہ دینے کی ضرورت کو اجاگر کرتا ہے۔
دستبرداری: یہ خبر دستیاب مقامی ذرائع کی بنیاد پر مصنوعی ذہانت (AI) کی مدد سے تیار کی گئی ہے۔ AI سے غلطیاں ممکن ہیں اور اس مواد کی صحت یا اصلیت کی کوئی ضمانت نہیں دی جا سکتی۔ TheAinak صرف معلومات کو یکجا کرتا ہے اور اس کے مواد کا ذمہ دار نہیں ہے۔ قارئین سے گزارش ہے کہ کسی بھی معلومات پر بھروسہ کرنے یا اس پر عمل کرنے سے پہلے اس کی آزادانہ طور پر تصدیق ضرور کر لیں۔
