مظفرپور کا 30 کروڑ کا ماڈل اسپتال: سہولیات کا فقدان، آکسیجن پلانٹ بنا ملازمین کا آرام گاہ
سہولیات کے نام پر صرف دکھاوا
مظفرپور صدر اسپتال کو ‘ماڈل اسپتال’ کا درجہ دینے کے لیے تقریباً 29.80 کروڑ روپے کی خطیر رقم خرچ کی گئی تھی۔ مقصد یہ تھا کہ شہر کے مریضوں کو جدید طبی سہولیات میسر ہوں گی، لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے۔ آج یہ اسپتال سہولیات کے فقدان اور انتظامی لاپرواہی کی ایک جیتی جاگتی مثال بن چکا ہے۔ ریاستی سطح پر صحت خدمات کی حالیہ درجہ بندی میں مظفرپور کا 36 واں مقام حاصل کرنا اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ یہاں کی طبی خدمات کس قدر زبوں حالی کا شکار ہیں۔
آکسیجن پلانٹ کی حالت زار
اسپتال کی بدانتظامی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ کورونا کے دوران نصب کیا گیا 900 ایل پی ایم صلاحیت کا آکسیجن پلانٹ گزشتہ تین سال سے بند پڑا ہے۔ یہ پلانٹ اب مریضوں کی جان بچانے کے بجائے اسپتال کے ملازمین کے لیے ‘آرام گاہ’ میں تبدیل ہو چکا ہے، جہاں بستر بچھا کر آرام کیا جاتا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ پلانٹ بند ہونے کے باوجود اسپتال انتظامیہ ہر ماہ آکسیجن سلنڈر خریدنے پر ہزاروں روپے خرچ کر رہی ہے، جو کہ سرکاری خزانے پر اضافی بوجھ ہے۔
بڑے اخراجات، معمولی نتائج
اسپتال میں 45 ڈاکٹر اور 60 پیرامیڈیکل اسٹاف تعینات ہیں، جن کی تنخواہوں اور دیگر دیکھ بھال کے اخراجات پر ہر ماہ کروڑوں روپے خرچ کیے جاتے ہیں۔ اس کے باوجود 100 بستروں والے اس اسپتال میں روزانہ 600 سے 800 مریض او پی ڈی میں آتے ہیں، لیکن ان میں سے بہت کم کو ہی داخلہ مل پاتا ہے۔ پرائیویٹ وارڈ اور آرتھو آپریشن تھیٹر جیسی بنیادی سہولیات اب بھی فعال نہیں ہو سکی ہیں۔
انتظامیہ کا موقف
اس معاملے پر سول سرجن ڈاکٹر سدھیر کمار کا کہنا ہے کہ اسپتال میں سہولیات کو بڑھایا جا رہا ہے اور مریضوں کی شکایات پر کارروائی کی جا رہی ہے۔ تاہم، زمینی حقائق بتاتے ہیں کہ جب تک بند پڑے آکسیجن پلانٹ کو دوبارہ فعال نہیں کیا جاتا اور طبی سہولیات کو عام مریضوں کی پہنچ میں نہیں لایا جاتا، تب تک کروڑوں کی یہ سرمایہ کاری محض ایک دکھاوا ہی رہے گی۔
دستبرداری: یہ خبر دستیاب مقامی ذرائع کی بنیاد پر مصنوعی ذہانت (AI) کی مدد سے تیار کی گئی ہے۔ AI سے غلطیاں ممکن ہیں اور اس مواد کی صحت یا اصلیت کی کوئی ضمانت نہیں دی جا سکتی۔ TheAinak صرف معلومات کو یکجا کرتا ہے اور اس کے مواد کا ذمہ دار نہیں ہے۔ قارئین سے گزارش ہے کہ کسی بھی معلومات پر بھروسہ کرنے یا اس پر عمل کرنے سے پہلے اس کی آزادانہ طور پر تصدیق ضرور کر لیں۔
