مظفرپور کے ہسپتال میں قیامت خیز آگ: آئی سی یو میں دم گھٹنے سے دو مریضوں کی موت، کئی کی حالت تشویشناک
مظفرپور میں ہولناک حادثہ
مظفرپور کے ایک نجی ہسپتال میں پیش آنے والے ایک المناک واقعے نے پورے شہر کو سوگوار کر دیا ہے۔ ہسپتال کے انتہائی نگہداشت یونٹ (آئی سی یو) میں اچانک لگنے والی بھیانک آگ نے دو مریضوں کی جان لے لی، جبکہ دیگر کئی مریضوں کی حالت اب بھی نازک بنی ہوئی ہے۔ آگ کے شعلوں نے دیکھتے ہی دیکھتے ہسپتال کے ایک بڑے حصے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا، جس سے وہاں موجود مریضوں اور ان کے لواحقین میں شدید افراتفری مچ گئی۔
حادثے کی تفصیلات
ابتدائی اطلاعات کے مطابق، آگ لگنے کی وجہ شارٹ سرکٹ بتائی جا رہی ہے۔ آئی سی یو میں موجود مریضوں کو باہر نکالنے کی کوششیں کی گئیں، لیکن دھوئیں کے شدید غبار اور آگ کی شدت کی وجہ سے امدادی کاموں میں کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ ہسپتال کے عملے اور مقامی لوگوں نے اپنی مدد آپ کے تحت مریضوں کو بچانے کی کوشش کی، تاہم دو افراد جانبر نہ ہو سکے۔
- آئی سی یو میں داخل مریضوں میں سے دو کی موت کی تصدیق۔
- کئی مریضوں کو شدید حالت میں دوسرے ہسپتالوں میں منتقل کیا گیا۔
- فائر بریگیڈ کی گاڑیوں نے کئی گھنٹوں کی مشقت کے بعد آگ پر قابو پایا۔
- انتظامیہ نے واقعے کی تحقیقات کے احکامات جاری کر دیے ہیں۔
انتظامیہ کا ردعمل
واقعے کے بعد ضلعی انتظامیہ کے اعلیٰ حکام موقع پر پہنچے اور صورتحال کا جائزہ لیا۔ ہسپتال میں حفاظتی انتظامات کی کمی اور آگ بجھانے والے آلات کی عدم دستیابی پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ متاثرہ خاندانوں کا کہنا ہے کہ اگر ہسپتال میں ایمرجنسی کے مناسب انتظامات ہوتے تو شاید قیمتی جانیں بچائی جا سکتی تھیں۔
فی الحال، ہسپتال کے متاثرہ حصے کو سیل کر دیا گیا ہے اور پولیس معاملے کی گہرائی سے تفتیش کر رہی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اگر ہسپتال انتظامیہ کی جانب سے کسی قسم کی غفلت برتی گئی تو ان کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ شہر کے دیگر ہسپتالوں کو بھی ہدایت دی گئی ہے کہ وہ اپنے حفاظتی نظام کا فوری طور پر آڈٹ کروائیں تاکہ مستقبل میں ایسے کسی بھی سانحے سے بچا جا سکے۔
دستبرداری: یہ خبر دستیاب مقامی ذرائع کی بنیاد پر مصنوعی ذہانت (AI) کی مدد سے تیار کی گئی ہے۔ AI سے غلطیاں ممکن ہیں اور اس مواد کی صحت یا اصلیت کی کوئی ضمانت نہیں دی جا سکتی۔ TheAinak صرف معلومات کو یکجا کرتا ہے اور اس کے مواد کا ذمہ دار نہیں ہے۔ قارئین سے گزارش ہے کہ کسی بھی معلومات پر بھروسہ کرنے یا اس پر عمل کرنے سے پہلے اس کی آزادانہ طور پر تصدیق ضرور کر لیں۔
