مظفرپور میں عظیم انقلابی رام پرساد بسمل کو خراجِ عقیدت، ادبی محفل میں یاد کیا گیا ان کا قربانی بھرا سفر
انقلابی شاعر اور مجاہدِ آزادی کی یاد میں تقریب
مظفرپور کے ادبی حلقوں نے ایک بار پھر عظیم مجاہدِ آزادی، شاعر اور انقلابی رہنما پنڈت رام پرساد بسمل کو ان کی یومِ پیدائش کے موقع پر یاد کیا۔ شہر کے ادبی بھون میں منعقدہ ایک خصوصی تقریب میں دانشوروں، ادیبوں اور سماجی کارکنان نے شرکت کی اور ملک کی آزادی کے لیے دی گئی ان کی لازوال قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔
ادب اور انقلاب کا حسین امتزاج
تقریب کے دوران مقررین نے اس بات پر زور دیا کہ رام پرساد بسمل محض ایک انقلابی نہیں تھے، بلکہ وہ ایک حساس شاعر اور صاحبِ طرز ادیب بھی تھے۔ ان کی شاعری میں حب الوطنی کا جو جذبہ پایا جاتا ہے، وہ آج بھی نوجوان نسل کے لیے مشعلِ راہ ہے۔ صدرِ تقریب چندر بھوشن سنگھ ‘چندر’ نے کہا کہ بسمل کی تحریریں صرف الفاظ نہیں بلکہ آزادی کی تڑپ کا اظہار ہیں، جنہوں نے برطانوی سامراج کے خلاف جدوجہد میں ایک نئی روح پھونک دی تھی۔
قربانیوں کی داستان
مقررین نے کاکوری کانڈ میں ان کے کلیدی کردار کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان کا پورا جیون ملک کی آزادی کے لیے وقف تھا۔ انہوں نے نہ صرف میدانِ عمل میں دشمن کا مقابلہ کیا بلکہ اپنی قلم کے ذریعے بھی عوام میں بیداری پیدا کی۔ ان کی زندگی کا ہر لمحہ ایثار اور قربانی کی ایک ایسی داستان ہے جسے تاریخ کبھی فراموش نہیں کر سکتی۔
عہدِ وفا
تقریب کے اختتام پر تمام شرکاء نے پنڈت رام پرساد بسمل کے بتائے ہوئے راستوں پر چلنے اور ملک کی سالمیت کے لیے کام کرنے کا عہد کیا۔ اس موقع پر پرشورام سنگھ، رامیشور سنگھ، سوراج لال ٹھاکر، چندر کشور چوبے، رامیشور مہتو، نند کشور ٹھاکر، مہیش کمار اور رجنیش کمار سمیت شہر کے کئی معززین موجود تھے۔ یہ تقریب اس بات کا ثبوت تھی کہ مظفرپور کے لوگ آج بھی اپنے ہیروز کی قربانیوں کو دل سے محسوس کرتے ہیں اور ان کی یادوں کو زندہ رکھنے کے لیے پرعزم ہیں۔
دستبرداری: یہ خبر دستیاب مقامی ذرائع کی بنیاد پر مصنوعی ذہانت (AI) کی مدد سے تیار کی گئی ہے۔ AI سے غلطیاں ممکن ہیں اور اس مواد کی صحت یا اصلیت کی کوئی ضمانت نہیں دی جا سکتی۔ TheAinak صرف معلومات کو یکجا کرتا ہے اور اس کے مواد کا ذمہ دار نہیں ہے۔ قارئین سے گزارش ہے کہ کسی بھی معلومات پر بھروسہ کرنے یا اس پر عمل کرنے سے پہلے اس کی آزادانہ طور پر تصدیق ضرور کر لیں۔
