مظفرپور: زچگی کے لیے تڑپتی رہی حاملہ، سرکاری اسپتال میں ڈاکٹر نہ ملنے پر پریوار مجبور
مظفرپور کے زچہ و بچہ اسپتال میں طبی نظام کی سنگین لاپرواہی
مظفرپور کے صدر اسپتال احاطے میں واقع زچہ و بچہ اسپتال (ماتر-ششو سدن) میں ایک بار پھر طبی نظام کی قلعی کھل گئی ہے۔ یہاں ایک حاملہ خاتون کو شدید دردِ زہ کے باوجود آٹھ گھنٹے تک بروقت طبی امداد فراہم نہیں کی گئی، جس کے نتیجے میں اہل خانہ کو اپنی مریضہ کی جان بچانے کے لیے اسے نجی اسپتال منتقل کرنا پڑا۔
کیا ہے پورا معاملہ؟
ویودوپور کی رہائشی شاہین پروین کو صبح نو بجے کے قریب زچگی کے درد کی شکایت پر اسپتال میں داخل کرایا گیا تھا۔ اہل خانہ کا الزام ہے کہ ابتدائی جانچ کے بعد ڈاکٹروں نے آپریشن کی ضرورت بتائی، لیکن اس کے بعد کوئی بھی ذمہ دار ڈاکٹر وہاں موجود نہیں تھا۔ خاتون آٹھ گھنٹے تک درد سے کراہتی رہی، لیکن اسپتال کا عملہ ٹس سے مس نہیں ہوا۔
عملے کا غیر انسانی رویہ
جب اہل خانہ نے بار بار ڈاکٹروں کو بلانے کی التجا کی تو اسپتال کے عملے نے یہ کہہ کر پلہ جھاڑ لیا کہ آپریشن کے لیے ڈاکٹر دستیاب نہیں ہیں، لہذا مریضہ کو کہیں اور لے جائیں۔ صورتحال کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے جب اہل خانہ نے سرکاری ایمبولینس مانگی تو انہیں یہ کہہ کر انکار کر دیا گیا کہ سرکاری گاڑی نجی اسپتال تک نہیں جائے گی۔ آخرکار، مجبوری کے عالم میں اہل خانہ نے ایک آٹو کا انتظام کیا اور خاتون کو نجی اسپتال لے کر روانہ ہوئے۔
انتظامیہ کا موقف
اس پورے واقعے پر اسپتال کے منیجر پروین کمار کا کہنا ہے کہ انہیں اس معاملے میں کسی بھی سطح پر کوئی باضابطہ شکایت موصول نہیں ہوئی ہے۔ تاہم، انہوں نے یقین دلایا ہے کہ میڈیا کے ذریعے سامنے آنے والی اس خبر کا نوٹس لیتے ہوئے وہ اپنے طور پر معاملے کی تحقیقات کرائیں گے۔
یہ واقعہ ضلع کے سرکاری صحت مراکز میں طبی سہولیات کی خستہ حالی اور عملے کی غیر ذمہ داری پر بڑے سوالیہ نشان کھڑے کرتا ہے۔ غریب مریض، جو سرکاری اسپتالوں پر بھروسہ کر کے آتے ہیں، اگر وہاں بھی انہیں در در کی ٹھوکریں کھانی پڑیں تو آخر وہ جائیں تو کہاں جائیں؟
دستبرداری: یہ خبر دستیاب مقامی ذرائع کی بنیاد پر مصنوعی ذہانت (AI) کی مدد سے تیار کی گئی ہے۔ AI سے غلطیاں ممکن ہیں اور اس مواد کی صحت یا اصلیت کی کوئی ضمانت نہیں دی جا سکتی۔ TheAinak صرف معلومات کو یکجا کرتا ہے اور اس کے مواد کا ذمہ دار نہیں ہے۔ قارئین سے گزارش ہے کہ کسی بھی معلومات پر بھروسہ کرنے یا اس پر عمل کرنے سے پہلے اس کی آزادانہ طور پر تصدیق ضرور کر لیں۔