مظفرپور میں طوفان اور ژالہ باری کا قہر: لیچی اور آم کی فصلوں کو بھاری نقصان
مظفرپور کے کسانوں پر قدرت کا قہر
مظفرپور کے اورائی اور کٹرا بلاک میں پیر کی رات آنے والے شدید طوفان، موسلادھار بارش اور ژالہ باری نے جہاں ایک طرف لوگوں کو شدید گرمی سے نجات دلائی، وہیں دوسری طرف کسانوں کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے۔ اس قدرتی آفت نے علاقے کی اہم فصلوں، خاص طور پر آم اور لیچی کے باغات کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔
فصلوں کی تباہی سے کسان پریشان
مقامی کسانوں اور باغبانوں کے مطابق، طوفان کی شدت اتنی زیادہ تھی کہ درختوں پر لگی آم کی کچی فصلیں بڑی تعداد میں ٹوٹ کر زمین پر گر گئیں۔ لیچی کے باغات کا بھی یہی حال ہے، جہاں کئی ایکڑ رقبے پر پھیلی فصل مکمل طور پر برباد ہو چکی ہے۔ سبزیوں کے کاشتکاروں کو بھی ژالہ باری کے سبب بھاری نقصان کا سامنا ہے۔ مکئی اور مونگ کی کھڑی فصلیں بھی زمین بوس ہو گئی ہیں، جس سے کسانوں کی امیدیں دم توڑ گئی ہیں۔
عوامی زندگی پر اثرات
فصلوں کے علاوہ، طوفان نے رہائشی علاقوں میں بھی تباہی مچائی ہے۔ اورائی کے کئی دیہاتوں میں درجنوں گھروں کی چھتیں اڑ گئیں، جس سے غریب خاندان کھلے آسمان تلے آ گئے ہیں۔ خاص طور پر باگمتی پشتے کے قریب آباد بے گھر خاندانوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ کئی مقامات پر درخت گرنے سے سڑکوں پر آمدورفت کا نظام درہم برہم ہو گیا ہے۔
بجلی کا نظام درہم برہم
طوفان کے باعث پورے علاقے میں بجلی کا نظام بری طرح متاثر ہوا ہے۔ اورائی، کٹرا، مشہری اور گائے گھاٹ جیسے علاقوں میں بجلی کی سپلائی ٹھپ ہو گئی ہے، جس سے معمولات زندگی مفلوج ہو کر رہ گئے ہیں۔ مقامی انتظامیہ اور بجلی محکمہ کی ٹیمیں بحالی کے کاموں میں مصروف ہیں، تاہم نقصان کا تخمینہ لگانے کا عمل ابھی جاری ہے۔ اب تک کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ہے، لیکن کسانوں کے لیے یہ صورتحال معاشی بحران کا پیش خیمہ ثابت ہو رہی ہے۔
دستبرداری: یہ خبر دستیاب مقامی ذرائع کی بنیاد پر مصنوعی ذہانت (AI) کی مدد سے تیار کی گئی ہے۔ AI سے غلطیاں ممکن ہیں اور اس مواد کی صحت یا اصلیت کی کوئی ضمانت نہیں دی جا سکتی۔ TheAinak صرف معلومات کو یکجا کرتا ہے اور اس کے مواد کا ذمہ دار نہیں ہے۔ قارئین سے گزارش ہے کہ کسی بھی معلومات پر بھروسہ کرنے یا اس پر عمل کرنے سے پہلے اس کی آزادانہ طور پر تصدیق ضرور کر لیں۔