مظفرپور: منیاری میں اسکول کے قریب ٹیچر جوڑے کو یرغمال بنا کر لوٹ مار، بائیک اور زیورات چھینے
مظفرپور میں جرائم کا گراف بڑھا: ٹیچر جوڑے سے لوٹ مار
ضلع کے منیاری تھانہ علاقہ میں جرائم پیشہ عناصر کے حوصلے اس قدر بلند ہو چکے ہیں کہ اب شاہراہوں پر چلنا بھی غیر محفوظ ہو گیا ہے۔ پیر کی رات مہیوا روڈ پر پیش آئے ایک لرزہ خیز واقعہ میں آٹو سوار بدمعاشوں نے ایک ٹیچر جوڑے کو گھیر کر نہ صرف مار پیٹ کی بلکہ ان کی بائیک اور قیمتی زیورات بھی لوٹ لیے۔
متاثرہ ٹیچر جے پال شرن، جو باریارپور کے رہنے والے ہیں، اپنی اہلیہ رنجو کماری کے ساتھ ایک تقریب سے واپس لوٹ رہے تھے۔ شاہپور مریچا اسکول کے نزدیک پہنچتے ہی آٹو میں سوار سات سے آٹھ بدمعاشوں نے ان کی بائیک کو چاروں طرف سے گھیر لیا۔ مزاحمت کرنے پر بدمعاشوں نے انہیں جان سے مارنے کی دھمکی دی اور زبردستی ان کی بائیک، اہلیہ کے گلے سے سونے کی چین اور منگل سوتر چھین لیا۔
واقعہ کے بعد مقامی لوگوں میں شدید غم و غصہ پایا جا رہا ہے۔ دیہی باشندوں کا کہنا ہے کہ اس علاقے میں پولیس کی گشت نہ ہونے کے برابر ہے، جس کی وجہ سے مجرموں کے حوصلے پست ہونے کے بجائے مزید بلند ہو رہے ہیں۔ مقامی لوگوں نے بتایا کہ شاہپور مریچا اسکول کے آس پاس کا علاقہ پہلے بھی کئی بار مجرمانہ سرگرمیوں کا مرکز رہا ہے، لیکن انتظامیہ کی جانب سے کوئی ٹھوس قدم نہیں اٹھایا گیا۔
متاثرہ ٹیچر نے منیاری تھانہ میں شکایت درج کرائی ہے جس میں ششی رنجن کمار عرف پلٹو اور روشن کمار سمیت دیگر نامعلوم افراد کو ملزم ٹھہرایا گیا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ معاملے کی تفتیش شروع کر دی گئی ہے اور ملزمان کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔
اس واقعہ نے ایک بار پھر مظفرپور کے دیہی علاقوں میں امن و امان کی صورتحال پر سوالیہ نشان کھڑے کر دیے ہیں۔ عوام کا مطالبہ ہے کہ رات کے اوقات میں پولیس کی موجودگی کو یقینی بنایا جائے تاکہ عام شہری بلا خوف و خطر سفر کر سکیں۔
دستبرداری: یہ خبر دستیاب مقامی ذرائع کی بنیاد پر مصنوعی ذہانت (AI) کی مدد سے تیار کی گئی ہے۔ AI سے غلطیاں ممکن ہیں اور اس مواد کی صحت یا اصلیت کی کوئی ضمانت نہیں دی جا سکتی۔ TheAinak صرف معلومات کو یکجا کرتا ہے اور اس کے مواد کا ذمہ دار نہیں ہے۔ قارئین سے گزارش ہے کہ کسی بھی معلومات پر بھروسہ کرنے یا اس پر عمل کرنے سے پہلے اس کی آزادانہ طور پر تصدیق ضرور کر لیں۔