مظفر پور: پرشاد ہسپتال کے آئی سی یو میں خوفناک آتشزدگی، 5 مریضوں کی موت سے کہرام
مظفر پور میں ہولناک حادثہ
مظفر پور ضلع کے سب سے بڑے طبی مراکز میں شمار ہونے والے پرشاد ہسپتال میں جمعرات کی علی الصبح پیش آنے والے ایک المناک حادثے نے پورے علاقے کو سوگوار کر دیا ہے۔ ہسپتال کی چوتھی منزل پر واقع آئی سی یو وارڈ میں اچانک آگ بھڑک اٹھی، جس کے نتیجے میں زیر علاج 5 مریضوں کی موت واقع ہو گئی، جبکہ متعدد دیگر افراد شدید زخمی ہوئے ہیں۔
واقعہ کی تفصیلات
ذرائع کے مطابق یہ واقعہ صبح تقریباً 3 بجے پیش آیا۔ جس وقت آگ لگی، آئی سی یو وارڈ میں 13 سے 15 مریض انتہائی تشویشناک حالت میں داخل تھے۔ آگ کے شعلوں اور زہریلے دھوئیں نے دیکھتے ہی دیکھتے پورے وارڈ کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ مریضوں کی حالت ایسی نہیں تھی کہ وہ خود کو بچانے کے لیے باہر نکل پاتے، جس کی وجہ سے دم گھٹنے اور جھلسنے سے ہلاکتیں ہوئیں۔
فائر بریگیڈ کے عملے کو صبح 3:50 بجے اطلاع ملی اور 4 بجے تک ٹیم موقع پر پہنچ گئی۔ فائر فائٹرز نے جان جوکھم میں ڈال کر ریسکیو آپریشن شروع کیا اور تقریباً 15 سے 20 مریضوں کو بحفاظت نکال کر دوسرے ہسپتالوں میں منتقل کیا۔ فائر فائٹرز کے مطابق وارڈ میں دھواں اس قدر زیادہ تھا کہ سانس لینا بھی محال تھا۔
جاں بحق ہونے والوں کی شناخت
اس المناک حادثے میں اپنی جان گنوانے والے بدقسمت مریضوں کی شناخت درج ذیل ہے:
- ششانک کمار (رٹن پور، اورائی)
- گیتا دیوی (موتی پور)
- ادے جھا (تریاہنی)
- کرشن نندن (اورائی)
- سنجیت کمار (صاحب گنج)
سیاسی ہلچل اور خاموشی
اس سانحے کے بعد سیاسی حلقوں میں بھی گرما گرمی دیکھی گئی۔ جہاں ایک طرف اپوزیشن نے ریاستی حکومت اور وزیر صحت کی خاموشی پر شدید تنقید کی ہے، وہیں حکومتی ترجمانوں کا کہنا ہے کہ انتظامیہ فوری طور پر حرکت میں آ گئی تھی۔ وزیر صحت نشانت کمار نے اس معاملے پر میڈیا کے سوالات کا کوئی جواب نہیں دیا، جس پر آر جے ڈی نے اسے ‘غیر حساسیت کی انتہا’ قرار دیا ہے۔ دوسری جانب جے ڈی یو نے وضاحت کی ہے کہ وزیر صحت واقعے سے آگاہ تھے اور محکمہ صحت کی جانب سے فوری کارروائی کی جا رہی ہے۔
فی الحال صورتحال قابو میں ہے، تاہم ہسپتال انتظامیہ کی جانب سے حفاظتی انتظامات پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں جس کی تحقیقات متوقع ہے۔
دستبرداری: یہ خبر دستیاب مقامی ذرائع کی بنیاد پر مصنوعی ذہانت (AI) کی مدد سے تیار کی گئی ہے۔ AI سے غلطیاں ممکن ہیں اور اس مواد کی صحت یا اصلیت کی کوئی ضمانت نہیں دی جا سکتی۔ TheAinak صرف معلومات کو یکجا کرتا ہے اور اس کے مواد کا ذمہ دار نہیں ہے۔ قارئین سے گزارش ہے کہ کسی بھی معلومات پر بھروسہ کرنے یا اس پر عمل کرنے سے پہلے اس کی آزادانہ طور پر تصدیق ضرور کر لیں۔