مظفرپور ہسپتال آتشزدگی: انسانی حقوق کمیشن میں عرضی، ریٹائرڈ جج سے تحقیقات کا مطالبہ
مظفرپور کے پرساد ہسپتال میں پیش آئے المناک واقعہ پر قانونی شکنجہ
مظفرپور کے برہم پورہ واقع پرساد ہسپتال میں پیش آئے ہولناک آتشزدگی کے واقعہ نے پورے شہر کو سوگوار کر دیا ہے۔ اس سانحے میں کئی مریضوں کی جان جانے کے بعد اب یہ معاملہ قومی اور ریاستی انسانی حقوق کمیشن کی دہلیز تک پہنچ چکا ہے۔ انسانی حقوق کے معروف وکیل ایس کے جھا نے اس معاملے میں باضابطہ طور پر عرضی دائر کی ہے، جس میں واقعے کی شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
تحقیقات کے لیے اعلیٰ سطحی کمیٹی کی ضرورت
عرضی گزار کا کہنا ہے کہ ہسپتال جیسی حساس جگہ پر آگ لگنا محض ایک حادثہ نہیں بلکہ انتظامیہ کی سنگین غفلت کا نتیجہ ہو سکتا ہے۔ انہوں نے دونوں کمیشنوں سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ اس پورے معاملے کی جانچ کسی ریٹائرڈ جج کی نگرانی میں کرائی جائے۔ ان کا ماننا ہے کہ صرف ایک آزاد اور اعلیٰ سطحی تحقیقات ہی اس بات کا تعین کر سکتی ہے کہ آیا ہسپتال میں آگ سے بچاؤ کے حفاظتی معیارات پر عمل کیا جا رہا تھا یا نہیں۔
ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ
اس عرضی میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگر تحقیقات کے دوران ہسپتال انتظامیہ یا کسی بھی متعلقہ فریق کی لاپرواہی ثابت ہوتی ہے، تو ان کے خلاف سخت سے سخت قانونی کارروائی کی جانی چاہیے۔ وکیل کا کہنا ہے کہ اس طرح کے واقعات کی روک تھام کے لیے ذمہ داروں کو جوابدہ بنانا ناگزیر ہے تاکہ مستقبل میں کسی اور خاندان کو اس طرح کے صدمے سے نہ گزرنا پڑے۔
واقعے کا پس منظر
یاد رہے کہ جمعرات کی صبح برہم پورہ کے پرساد ہسپتال میں اچانک آگ بھڑک اٹھی تھی۔ آگ لگنے کے بعد ہسپتال میں افراتفری مچ گئی اور مریضوں کو بچانے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر ریسکیو آپریشن چلایا گیا۔ تاہم، اس حادثے میں کئی مریضوں کی موت ہو گئی، جس سے پورے علاقے میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی ہے۔ فی الحال انتظامی سطح پر بھی اس معاملے کی جانچ جاری ہے، لیکن انسانی حقوق کمیشن میں عرضی دائر ہونے کے بعد اس معاملے نے ایک نئی قانونی جہت اختیار کر لی ہے۔
دستبرداری: یہ خبر دستیاب مقامی ذرائع کی بنیاد پر مصنوعی ذہانت (AI) کی مدد سے تیار کی گئی ہے۔ AI سے غلطیاں ممکن ہیں اور اس مواد کی صحت یا اصلیت کی کوئی ضمانت نہیں دی جا سکتی۔ TheAinak صرف معلومات کو یکجا کرتا ہے اور اس کے مواد کا ذمہ دار نہیں ہے۔ قارئین سے گزارش ہے کہ کسی بھی معلومات پر بھروسہ کرنے یا اس پر عمل کرنے سے پہلے اس کی آزادانہ طور پر تصدیق ضرور کر لیں۔
