مظفرپور: دن دہاڑے اغوا کا ڈرامائی انکشاف، محبت اور پرانی دشمنی نکلی وجہ
مظفرپور کے قاضی محمد پور تھانہ علاقے میں اتوار کی دوپہر پاور ہاؤس چوک کے قریب پیش آنے والے دن دہاڑے اغوا کے واقعے نے شہر میں سنسنی پھیلا دی تھی۔ تاہم، پولیس نے محض چار گھنٹوں کے اندر اس پیچیدہ معاملے کو حل کرتے ہوئے ایک ملزم کو گرفتار کر لیا ہے اور اغوا کی اصل وجوہات کو بے نقاب کر دیا ہے۔ یہ واقعہ محبت کے مثلث اور پرانی دشمنی کا شاخسانہ نکلا۔
پولیس کے مطابق، متاثرہ نوجوان آیوش کا اغوا ایک منصوبہ بند سازش کا حصہ تھا جس کے پیچھے محمد رحمان نامی شخص کا ہاتھ تھا۔ تفتیش میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ آیوش اور ایک لڑکی کے درمیان محبت کا رشتہ تھا، جس پر محمد رحمان کو شدید اعتراض تھا۔ دونوں کے درمیان اس معاملے پر پہلے بھی کئی بار جھگڑے اور ہاتھا پائی ہو چکی تھی۔ کچھ عرصہ قبل ایک ایسے ہی تنازع میں آیوش نے محمد رحمان کی پٹائی کر دی تھی، جس کا بدلہ لینے کے لیے رحمان نے اپنے چار سے پانچ ساتھیوں کے ساتھ مل کر آیوش کو اغوا کرنے کی سازش رچی۔
اغوا کے لیے استعمال کی گئی تھار گاڑی پر راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) کا جھنڈا اور ‘ضلع سیکرٹری، چھاتر راشٹریہ جنتا دل’ کا بورڈ لگا ہوا تھا، جس نے اس واقعے کو مزید پراسرار بنا دیا اور عوامی حلقوں میں خوب چرچا کا باعث بنا۔ دن دہاڑے ایک مصروف علاقے سے اس طرح کی واردات نے قانون نافذ کرنے والے اداروں پر بھی سوالات اٹھا دیے تھے۔
واقعے کی اطلاع ملتے ہی سینئر افسران کی ہدایت پر ضلع بھر میں فوری طور پر ناکہ بندی، گاڑیوں کی تلاشی اور چھاپہ ماری کا سلسلہ شروع کر دیا گیا۔ پولیس کی اس تیزی اور گرفتاری کے خوف سے اغوا کاروں نے آیوش کو تشدد کا نشانہ بنانے کے بعد چھوڑ دیا اور فرار ہو گئے۔ اس کے بعد پولیس نے اپنی کارروائی جاری رکھتے ہوئے کانٹی تھانہ علاقے کے رہائشی محمد رحمان کو سریا تھانہ علاقے سے اغوا میں استعمال ہونے والی تھار گاڑی سمیت گرفتار کر لیا۔
متاثرہ آیوش کے بیان پر قاضی محمد پور تھانہ میں مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔ پولیس اب دیگر ملوث ملزمان کی گرفتاری کے لیے مسلسل چھاپہ ماری کر رہی ہے۔ اس واقعے نے ایک بار پھر یہ ثابت کر دیا ہے کہ ذاتی رنجشیں اور محبت کے معاملات کس طرح سنگین جرائم کا روپ دھار سکتے ہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ تمام ملزمان کو جلد از جلد قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔
دستبرداری: یہ خبر دستیاب مقامی ذرائع کی بنیاد پر مصنوعی ذہانت (AI) کی مدد سے تیار کی گئی ہے۔ AI سے غلطیاں ممکن ہیں اور اس مواد کی صحت یا اصلیت کی کوئی ضمانت نہیں دی جا سکتی۔ TheAinak صرف معلومات کو یکجا کرتا ہے اور اس کے مواد کا ذمہ دار نہیں ہے۔ قارئین سے گزارش ہے کہ کسی بھی معلومات پر بھروسہ کرنے یا اس پر عمل کرنے سے پہلے اس کی آزادانہ طور پر تصدیق ضرور کر لیں۔
