مقامی خبریں

بوچاہاں میں کالا زار کی دستک: محکمہ صحت الرٹ، گھر گھر چھڑکاؤ اور سروے شروع

بوچاہاں کے بیلھیا گاؤں میں کالا زار کا کیس سامنے آنے کے بعد محکمہ صحت متحرک

مظفرپور ضلع کے بوچاہاں بلاک کے تحت جھپاہاں پنچایت کے بیلھیا گاؤں میں کالا زار کے ایک مریض کی تصدیق کے بعد علاقے میں تشویش اور احتیاط کا ماحول ہے۔ وارڈ نمبر 14 کے رہائشی مکیش کمار کے ایک سالہ بیٹے شریاش کمار میں اس بیماری کی تشخیص ہوئی ہے، جس کے بعد محکمہ صحت نے فوری طور پر حفاظتی اقدامات شروع کر دیے ہیں۔

انسدادِ کالا زار کے لیے خصوصی مہم

بیماری کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے محکمہ صحت نے ایک خصوصی مہم کا آغاز کیا ہے۔ بی ایچ آئی سنجے رنجن اور وی بی ڈی ایس امرناتھ کی نگرانی میں دو خصوصی ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں جو گاؤں کے متاثرہ علاقوں میں ‘سنتھیٹک پائریتھروڈ’ (ایس پی) کا چھڑکاؤ کر رہی ہیں۔ اس مہم کا بنیادی مقصد ان مچھروں اور جراثیموں کا خاتمہ کرنا ہے جو کالا زار پھیلانے کا سبب بنتے ہیں۔ پیرا مل فاؤنڈیشن کے پروگرام آفیسر کنال کمار اس پورے عمل کی نگرانی کر رہے ہیں۔

گھر گھر سروے اور بیداری مہم

صرف چھڑکاؤ ہی نہیں، بلکہ محکمہ صحت نے پورے گاؤں میں گھر گھر جا کر سروے کرنے کی ہدایت بھی دی ہے۔ آشا ورکرز کو ذمہ داری سونپی گئی ہے کہ وہ ہر گھر کا دورہ کریں تاکہ کسی بھی مشتبہ مریض کی بروقت شناخت کی جا سکے۔ اس سلسلے میں جھپاہاں پنچایت کی مکھیا وبھا دیوی، سی ایچ او دیویا کماری اور اے این ایم رنکی کماری و ممتا کماری نے مقامی دیہی باشندوں کے ساتھ ایک اہم میٹنگ کی۔

علامات اور احتیاطی تدابیر

میٹنگ کے دوران ماہرین نے لوگوں کو کالا زار کی علامات کے بارے میں آگاہ کیا۔ انہوں نے زور دیا کہ اگر کسی کو مسلسل بخار، جسم میں کمزوری، وزن میں غیر معمولی کمی یا تلی (Spleen) بڑھنے کی شکایت ہو، تو اسے ہرگز نظر انداز نہ کریں۔ ایسے حالات میں فوری طور پر قریبی صحت مرکز سے رجوع کرنا ضروری ہے۔

ہسپتال کے انچارج میڈیکل آفیسر ڈاکٹر پربھات رنجن نے بتایا کہ متاثرہ بچے کی حالت اب بہتر ہے۔ محکمہ صحت کی ٹیمیں مسلسل نگرانی کر رہی ہیں تاکہ بیماری کو مزید پھیلنے سے روکا جا سکے۔ مقامی انتظامیہ نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ صفائی ستھرائی کا خاص خیال رکھیں اور محکمہ صحت کی ٹیموں کے ساتھ مکمل تعاون کریں۔


دستبرداری: یہ خبر دستیاب مقامی ذرائع کی بنیاد پر مصنوعی ذہانت (AI) کی مدد سے تیار کی گئی ہے۔ AI سے غلطیاں ممکن ہیں اور اس مواد کی صحت یا اصلیت کی کوئی ضمانت نہیں دی جا سکتی۔ TheAinak صرف معلومات کو یکجا کرتا ہے اور اس کے مواد کا ذمہ دار نہیں ہے۔ قارئین سے گزارش ہے کہ کسی بھی معلومات پر بھروسہ کرنے یا اس پر عمل کرنے سے پہلے اس کی آزادانہ طور پر تصدیق ضرور کر لیں۔

😃+

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button