مقامی خبریں

کانٹی میں طبی مراکز پر انتظامیہ کا شکنجہ: دو ہسپتال سیل، ایک کو نوٹس جاری

انتظامیہ کی سخت کارروائی: ضوابط کی خلاف ورزی پر ہسپتالوں کے خلاف ایکشن

ضلع مظفرپور کے کانٹی بلاک میں صحت کی سہولیات فراہم کرنے والے نجی اداروں کے خلاف ضلعی انتظامیہ نے ایک بڑی مہم کا آغاز کر دیا ہے۔ پیر کے روز ہونے والے اچانک معائنے کے بعد، منگل کے روز دو نجی ہسپتالوں کو سیل کر دیا گیا، جبکہ ایک تشخیصی مرکز کو اپنی کوتاہیوں کو دور کرنے کے لیے سخت تنبیہ جاری کی گئی ہے۔

ایس ڈی ایم ویسٹ آکانکشا آنند کی قیادت میں کی گئی اس کارروائی کا مقصد طبی مراکز میں مریضوں کی حفاظت اور سرکاری معیارات کی پاسداری کو یقینی بنانا ہے۔ حکام کے مطابق، معائنے کے دوران ان ہسپتالوں میں سنگین نوعیت کی بے ضابطگیاں پائی گئیں، جن میں آگ سے بچاؤ کے حفاظتی انتظامات کا فقدان سر فہرست تھا۔

کن مراکز کے خلاف کارروائی ہوئی؟

انتظامیہ کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق:

  • اپ میڈ ملٹی اسپیشلٹی ہسپتال: اس ہسپتال کو مکمل طور پر سیل کر دیا گیا ہے۔
  • شریجا چلڈرن ہسپتال: اس ہسپتال کے او پی ڈی (OPD) کو فی الحال کام کرنے کی اجازت دی گئی ہے، تاہم باقی تمام شعبوں کو سیل کر دیا گیا ہے۔
  • اوم ڈائیگنوسٹک پیتھالوجی سینٹر: اس مرکز کو انتظامیہ کی جانب سے شوکاز نوٹس جاری کیا گیا ہے اور انہیں سات دن کی مہلت دی گئی ہے کہ وہ اپنی خامیوں کو دور کر کے ضوابط کے مطابق کام شروع کریں۔

بلاک ڈیولپمنٹ آفیسر آنند کمار وبھوتی نے بتایا کہ یہ کارروائی کسی بھی قسم کی غفلت کو برداشت نہ کرنے کی پالیسی کے تحت کی گئی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ہسپتالوں میں مریضوں کی زندگیوں سے کھلواڑ کرنے والے کسی بھی ادارے کو بخشا نہیں جائے گا۔

آئندہ کا لائحہ عمل

انتظامیہ نے خبردار کیا ہے کہ یہ سلسلہ یہیں نہیں رکے گا۔ ضلع بھر کے تمام نجی ہسپتالوں اور لیبارٹریوں کی جانچ کا عمل جاری رہے گا۔ اگر کسی بھی مرکز میں حفاظتی معیارات یا طبی ضوابط کی خلاف ورزی پائی گئی تو اس کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ مقامی شہریوں نے انتظامیہ کے اس اقدام کو سراہتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ طبی مراکز میں شفافیت اور معیار کو یقینی بنایا جائے تاکہ عوام کو بہتر علاج معالجے کی سہولیات میسر آ سکیں۔


دستبرداری: یہ خبر دستیاب مقامی ذرائع کی بنیاد پر مصنوعی ذہانت (AI) کی مدد سے تیار کی گئی ہے۔ AI سے غلطیاں ممکن ہیں اور اس مواد کی صحت یا اصلیت کی کوئی ضمانت نہیں دی جا سکتی۔ TheAinak صرف معلومات کو یکجا کرتا ہے اور اس کے مواد کا ذمہ دار نہیں ہے۔ قارئین سے گزارش ہے کہ کسی بھی معلومات پر بھروسہ کرنے یا اس پر عمل کرنے سے پہلے اس کی آزادانہ طور پر تصدیق ضرور کر لیں۔

😃+

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button