NEET کے نام پر دھوکہ دہی: ٹیلی گرام کے ذریعے پیپر لیک کا جھانسہ دینے والا گروہ بے نقاب
NEET کے امیدواروں کو نشانہ بنانے والا سائبر گینگ گرفتار
ملک بھر میں زیر بحث NEET امتحان کے دوران طلباء کو گمراہ کرنے اور ان سے رقم بٹورنے والے ایک بڑے سائبر فراڈ گروہ کا پردہ فاش ہوا ہے۔ اس گروہ کے پانچ ارکان کو قانون نافذ کرنے والے اداروں نے حراست میں لیا ہے، جو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹیلی گرام کا استعمال کر کے امیدواروں کو جعلی پرچہ جات فروخت کرنے کا جھانسہ دیتے تھے۔
کس طرح کام کرتا تھا یہ گروہ؟
ابتدائی تحقیقات سے پتہ چلا ہے کہ یہ ملزمان انتہائی منظم انداز میں کام کر رہے تھے۔ انہوں نے ٹیلی گرام پر مختلف گروپس بنائے ہوئے تھے جہاں وہ NEET کے امیدواروں کو یہ یقین دلاتے تھے کہ ان کے پاس امتحان کا اصلی پرچہ موجود ہے۔ طلباء کی مجبوری اور کامیابی کی خواہش کا فائدہ اٹھاتے ہوئے، یہ گروہ ان سے بھاری رقوم کا مطالبہ کرتا تھا۔
- ٹیلی گرام پر جعلی پی ڈی ایف اور دستاویزات کا تبادلہ۔
- امیدواروں کو اصلی پرچہ دینے کا جھوٹا وعدہ۔
- آن لائن ادائیگیوں کے ذریعے رقم کی وصولی۔
- پیسے ملنے کے بعد امیدواروں کو بلاک کر دینا۔
سائبر سیکیورٹی اور طلباء کے لیے انتباہ
اس گرفتاری نے ایک بار پھر اس بات کو اجاگر کیا ہے کہ کس طرح سائبر مجرم تعلیمی امتحانات کے حساس وقت کا فائدہ اٹھاتے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ گروہ صرف ایک جگہ تک محدود نہیں تھا بلکہ اس کے نیٹ ورک کی جڑیں دور تک پھیلی ہوئی تھیں۔ تفتیش کاروں نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ اب تک پانچ افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے اور ان کے قبضے سے وہ تمام ڈیجیٹل آلات برآمد کر لیے گئے ہیں جنہیں وہ دھوکہ دہی کے لیے استعمال کرتے تھے۔
مستقبل کے لیے احتیاطی تدابیر
انتظامیہ نے تمام طلباء اور والدین سے اپیل کی ہے کہ وہ اس طرح کے کسی بھی غیر قانونی پیشکش پر ہرگز یقین نہ کریں۔ NEET جیسے اہم امتحانات کے پرچے لیک ہونے کی افواہیں اکثر دھوکہ دہی کا ذریعہ ہوتی ہیں۔ کسی بھی مشکوک سرگرمی کی اطلاع فوری طور پر سائبر سیل کو دی جانی چاہیے۔ فی الحال، پولیس اس گروہ کے دیگر ساتھیوں کی تلاش میں ہے تاکہ اس نیٹ ورک کو مکمل طور پر ختم کیا جا سکے۔
دستبرداری: یہ خبر دستیاب مقامی ذرائع کی بنیاد پر مصنوعی ذہانت (AI) کی مدد سے تیار کی گئی ہے۔ AI سے غلطیاں ممکن ہیں اور اس مواد کی صحت یا اصلیت کی کوئی ضمانت نہیں دی جا سکتی۔ TheAinak صرف معلومات کو یکجا کرتا ہے اور اس کے مواد کا ذمہ دار نہیں ہے۔ قارئین سے گزارش ہے کہ کسی بھی معلومات پر بھروسہ کرنے یا اس پر عمل کرنے سے پہلے اس کی آزادانہ طور پر تصدیق ضرور کر لیں۔