IslamMore مزیدOpinion مَشْوَرَہ ، خَیَالْ
معاشرے کے اصل محسنین بھی پیش خاطر رہیں !

Advertisement
معاشرے کے اصل محسنین بھی پیش خاطر رہیں !
عالمگیر وبا "کورونا وائرس” نے جس وقت (30/جنوری) کو اپنے زہریلے مادے کو لےکر وطنِ عزیز ہندوستان میں ہاتھ پاؤں پھیلانے شروع کئے تھے، اگر حکومت نے اسی وقت بھرپور مستعدی اور کامل سنجیدگی کا مظاہرہ ویسے ہی کیا ہوتا جیسا کہ اس کے وسیع پیمانے پر پھیل جانے (21/مارچ) کے بعد انتہائی مستعدی، تیز طراری اور بہتر طریقے پر اس سے نمٹنے کےلئے متعدد کوششیں اس سمت میں کی جا رہی ہیں تو بہت ممکن تھا کہ ملک گیر جس صورتحال کا سامنا اس وقت ہے، شاید وہ ہوتا ہی نہیں؟ اور اس کی وجہ سے بڑے پیمانے پر مالی خسارہ اور بھاری نقصان سرکاری خزانہ پر اثر انداز ہو رہا ہے یا وائرس سے اموات کی شکل میں جو انسانی جانوں کا زیاں ہوتا دکھائی دے رہا ہے شاید اس کی بھی نوبت پیش نہ آئی ہوتی؟ مگر پھر بھی عوام حکومت کے ساتھ کاندھے سے کاندھے ملائے کھڑے ہیں اور اس بیماری سے لڑنے، اس کو ہرانے کیلئے اس سمت میں جو بھی مناسب قدم، احتیاطی تدابیر اختیار کرنے اور موقع بہ موقع ہدایات جاری کی جا رہی ہیں، ان کو مکمل طور پر عمل میں لاکر اپوزیشن سمیت مختلف نظریات و مذاہب کے حامل لوگ سرکاری سطح پر کئے جانے والے تمام اقدام کی ستائش کر رہے ہیں۔ ادھر جانی مالی نقصان کو دیکھتے ہوئے ہرخاص و عام کی اس وقت یہی دعا ہے کہ اللہ پاک ہماری اور ہمارے پیارے ملک سمیت پوری انسانی برادری کی اس مہلک و جان لیوا بیماری سے حفاظت فرمائے اور جلد از جلد اپنے بندوں کو کھلی فضا میں سانس لینے کا موقع عنایت فرمائے؛(آمین)
واضح رہے کہ اس سلسلے میں حکومت کی طرف سے اٹھائے جانے والے اقدام میں سب سے اہم اور پہلا قدم سماجی دوری برتنے کا اعلان تھا، جس کےلئے اس نے 21/مارچ کو عارضی (صبح تا شام) عوامی کرفیو (لاک ڈاؤن) کی اپیل کی، اس کے بعد لاک ڈاؤن اول 21/دن اور لاک ڈاؤن ثانی 19/دن پر مبنی اعلانات کر عوامی کرفیو میں مزید توسیع کی گئی جس کی کل مدت 40/روزہ ہوتی ہے، عوام اسے بھی برداشت کر رہی ہے مگر اب دیکھنا یہ ہے کہ حکومت کا تجویز کردہ یہ "لاک ڈاؤن” اپنے مقررہ وقت (03/مئی) کو ختم ہو کر عوام کو راحت و آرام کی سانس فراہم کر بندش سے آزادی دلائےگا یا مزید اس میں ابھی توسیع کی جانا باقی ہے؟ البتہ وائرس کی تباہ کاریوں اور پریشان حال عوام کی بےاحتیاطی کو دیکھ کر اندیشہ جتانے والوں کی مانیں تو زیادہ پختہ خیال یہی ہے کہ یہ دونوں چیزیں مدت توسیع میں مزید اضافہ اور پریشانی کا سبب ہوں گی (توسیع کے امکانات زیادہ ہیں) اور اگر ایسا ہوتا ہے تو پھر تو اب تک رمضان کا عشرہ اول ہی اس کی زد میں تھا لیکن مزید توسیع کے بعد تو پورا رمضان ہی "لاک ڈاؤن” کی نظر ہو کر رہ جائےگا، اللہ پاک خصوصی رحم و کرم کا معاملہ فرمائے، اس لئے کہ اصل اللہ پاک ہی حالات میں بہتری فرمانے والے ہیں (نِعم المولیٰ و نعم النَّصیر)
اچانک اٹھائے گئے اس قدم سے خود حکومت کو بھی اور عوام کو بھی اس بات کا شدت سے احساس ہےکہ:
"مذکورہ بیماری سے لڑنے کےلئے حکومت کا یہ ایسا قدم تھا جس کے مثبت و منفی اثرات اور متفرق آراء پر مبنی خدشات و نظریات سماج سے وابستہ ہر شئی ہر کام اور ہر ادارہ پر منتج ہوں گے، ادارے سرکاری ہوں یا نیم سرکاری؛ قومی، ملی، دینی، تعلیمی، رفاہی سماجی سبھی بھاری نقصان سے دوچار ہوں گے جس کو بہرحال برداشت کرنا ہوگا۔ نقصان کی بات کریں تو اس سے بڑا نقصان اور کیا ہوگا کہ ہرمذہب کے ماننے والوں کےلئے منادی کرا دی گئی اور عبادات کے تئیں ان کو پابند کر دیا گیا کہ "سوشل ڈسٹینسنگ” کا لحاظ کرتے ہوئے زیادہ سے زیادہ لوگ اپنے اپنے ٹھکانوں پر ہی عبادات اور دیگر مذہبی رسوم کی ادائیگی کریں یعنی عمومی اور اجتماعی طور پر عبادت خانوں سے روک دیا گیا بس چند اشخاص کو حاضر ہونے کی اجازت ہے وہ بھی ضروری شرائط کی پابندی کے ساتھ۔ اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ کیا کسی نے کبھی یہ سب سوچا ہوگا یا ایسے دن دیکھنے کی کسی نے خواہش جتائی ہوگی؟ ایسے میں ذرا اس مؤمن کامل کے دل کا حال دیکھو جو نماز پنج گانہ کا پابند ہو اور اسے نماز جمعہ جیسی عظیم الشان عبادت سے یکسر محرومی ہو جائے تو اس کے دل بیتاب پر کیا بیتتی ہوگی؟
الغرض اس وبائی آفت سے معاشرے میں رائج عبادات و معاملات سے لےکر انفرادی اور اجتماعی طور پر انجام دینے والا ہر عمل متاثر ہے اور متآثر بھی ایسا ہے جس کا بظاہر کوئی متبادل نظر نہیں آرہا ہے۔
یہ پریشان کن اور تشویشناک صورتحال جس کا ہر ذی شعور دردمند کو سامنا ہے، یقینا ان اہل مدارس و مکاتب کےلئے بھی ڈبل آزمائش کی گھڑی ہے جن کےلئے سال بھر کے مالی انتظام و انصرام کے واسطے یہی ماہ رمضان المبارک (جو اس بار لاک ڈاؤن کی نظر ہوتا دکھائی دے رہا ہے) نوید صبح بن کر جلوہ افروز ہوا کرتا تھا اور اہل خیر و صاحب ثروت حضرات بھی اپنی جمع پونجی سے زکاۃ و خیرات کا ایک بڑا حصہ نکال اہل مدارس و مکاتب کا مالی تعاون کر ان کی آسانی اور اپنی آخرت سازی کر لیا کرتے تھے۔
مگر شاید امسال ایسا نہ ہو سکےگا جس کی وجہ سے مدارس و مکاتب سے وابستہ وہ حضرات علماء کرام اور خدام دین متین یقینا پریشانی کے عالم میں ہیں جن کی سال بھر کی قلیل تنخواہ یا ملنے والا معمولی وظیفہ بھی اسی رمضان المبارک میں ہونے والی آمدنی پر موقوف رہتا تھا جو خطے خطے گھوم پھر کر اور ایک شہر سے دوسرے شہر کی خاک چھان کر صاحب ثروت اور اہل خیر حضرات کے سامنے پہنچتے تھے جہاں یہ حضرات ہر طرح کی کمزوری پریشانی اور گھاٹے ٹوٹے میں چل رہے مدارس کی حالت کو بیان کر اپنی سال گذشتہ اور آئندہ کی تنخواہیں وصول کرنے اور تعلیمی و تعمیری اخراجات کی بھرپائی کرنے کےلئے مالی وصولیابی کا بند و بست کر دینی خدمات انجام دیا کرتے تھے۔ اللہ ہمارے اوپر رحم فرمائے کہ آج کے موجودہ حالات نے کس طرح بلاتفریق مذہب و ملت پوری انسانی برادری کو ایسے نازک حالات اور مشکل گھڑی کا سامنا کرایا ہے، کہ نہ تو اسے الفاظ میں بیان کیا جاسکتا ہے اور نہ ہی اس سے ہونے والے نقصان کا احاطہ اور تلافی کی جاسکتی ہے جس کی ہولناکی کی سطح دبیز اور جس کی خوفناکی کا پیمانہ وسیع و عریض ہے۔ ایسے مشکل و خوفناک حالات میں ذمہ داران مدارس اپنے مدرسین و ملازمین کے ساتھ اخوت و محبت کا معاملہ فرمائیں اور صاحب استطاعت حضرات بھی جہاں اس وقت پوری آب و تاب اور ایمانی حرارت کے ساتھ غریبوں، کمزورں، بےکسوں اور بےسہارا طبقات کی امداد رسی کرنے میں لگے ہیں اور حتی المقدور اس بات کی کوشش و جستجو کر رہے ہیں کہ کوئی بھی بھوکا پیاسا نہ رہے؛ یقینا ان کا یہ جذبۂ ایمانی قابل تحسین اور مبارکبادی کے لائق ہے، ان حضرات کو یقینا رب تعالی کی خوشنودی و رضا حاصل ہوگی؛ مگر ! وہ اعلیٰ ظرف خوددار اور صبر و قناعت کے پیکر بےمثل و بےمثال گوہرِنایاب حضرات جو "قال اللہ و قال الرسول” کی عطربیز صداؤں سے فضاؤں کو معطر زار بنانے میں خود کو ہردن ہرلمحہ منہمک و مصروف رکھتے ہیں، ان کا مقصد حقیقی مخلوق کا رشتہ اس کے خالق و مالک سے وابستہ کرنے میں اور رات و دن اپنے معبود حقیقی کو متعارف کرانے میں لگا رہتا ہے، یہ وہ حضرات ہیں جو بھٹکے اور بگڑے ہوئے انسانوں کے نہاں خانوں میں انسانی عظمت کے قندیل روشن کر اسے عظمت انسانی کا پاسدار اور مخلوق خدا کے ساتھ شفقت و محبت کے ساتھ پیش آنے والے جذبات سے سرشار کرنے میں اپنے دل و دماغ کی آخری شِق تک صرف کرنے سے گریز نہیں کرتے، تو کیا بھلا ایسے شفیق و ہمدرد اور عظمت رفتہ کی بازیابی کے حصول میں مستغرق شخصیات ہماری نظر کرم اور احسان و بھلائی کی مستحق نہیں ہیں؟ جبکہ حق بات تو یہ ہے کہ ہمارا پورا سماج اور معاشرہ ان کے احسانات و قربانیوں کے بوجھ تلے جی رہا ہے جس کا ہم میں سے اکثر کو احساس نہیں ہے، اس لئے خدارا ! سماج و معاشرہ کے اس بےلوث و بےغرض طبقے کو بھی پیش خاطر رکھتے ہوئے اپنے قیمتی مصارف کا حصہ بنائیں اور دنیا و آخرت کے معاملات سے چھٹکارا پانے کی واسطے انہیں اپنا وکیل و سفارشی بنائیں۔
0
😃+