ڈوبتے کوتنکے کاسہاراہی کافی ہوتاہے

ڈوبتے کوتنکے کاسہاراہی کافی ہوتاہے
فی الحال عا لمی وبا کورونا وائرس کا قہر ابھی بھی جاری ہے یہ ایسا وبائی مرض ہے جو دنیا بھر میں تہلکہ مچا چکاہے طبی ماہرین اسکے علاج کا راستہ تلاش نے میں فیل ثابت ہورہے ہیں۔
لاکھوں لوگ اسکے شکار ہوکر موت کی آغوش میں جاچکے ہیں اورکچھ ابھی موت کے انتظار میں ہیں۔اپنا ملک ہندوستان بھی کورونا وائرس کی چپیٹ میں آچکاہے اور لاک ڈاؤن مزید توسیع کردیاگیاہے،ریڈ زون، گرین زون،اورینج زون،کرکے لوگوں کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کو کہا جا رہا ہے پورے ہندوستان میں اس وقت لاک ڈاؤن اور رات کا کرفیو نافذ ہے نہ معلوم یہ سلسلہ کب تک جاری رہے مرکزی ریاستی حکومتوں کے احکامات پر دارومدار ہے
ایسے میں برطانیہ اور امریکہ نے بلڈپلازمہ سے کوروناوائرس کے علاج کی منظوری دے دی ہے، کورونا وائرس سے صحت یاب ہونے والے افراد کا بلڈ پلازمہ متاثرین کیلئے فائدہ مند ثابت ہورہاہے۔
اگر میں یہ کہوں تو بیجا نہ ہوگا کہ کہ وائرس کی وجہ سے ہونے والے جانی نقصان کے دوران پلازمہ تھراپی ڈوبتے کو تنکے کا سہارا ثابت ہوتی نظر آرہی ہے
کسی بھی وائرس سے متاثر ہونے کے بعد ازسر نو صحت یاب ہونے والے شخص کے باڈی میں قدرتی طور پر اس بیماری سے لڑنے کی صلاحیت پیدا ہوجاتی ہے
اور صحت یاب ہونیوالے شخص کے جسم میں خون سے پلیٹ لیٹس یا پلازمہ حاصل کرکے اسیکورنا وائرس کے مریض کے جسم میں ڈالا جاتاہے اسی فعل کو پلازمہ تھراپی کہتے ہیں۔
طبی ماہرین کے مطابق صحت یاب ہونے والے افراد کا بلڈ پلازمہ تین دن میں کورونا وائرس سے متاثرہ مریض کو صحت یاب ہونے میں کارگر ثابت ہورہاہے
چین میں بھی پلازمہ تھراپی کا تجربہ کیاگیا جوکہ 100%فیصد کامیاب رہا۔
فروری کے شروعات سے ہی اس کام کا آغاز کردیا گیاتھا
اسے محفوظ اور پر اثر طریقہ قرار دیاگیا۔
اپنے ملک ہندوستان میں سب سے پہلے کیرالا نے پلازمہ تھراپی کی طرف توجہ مبذول کروائی تھی، دہلی میں بھی بعض مریضوں پر اس کا تجربہ کیاگیا۔اسکے مثبت نتائج دیکھنے کوملے ہیں۔بہارحکومت بھی پلازمہ تھراپی کیلئے مرکزسے اجازت طلب کررہی ہے۔
کورونا وائرس کی وجہ سے پوری دنیا تھم سی گئی ہے۔
سوپر پاورہونے کا دعوی کرنے والے ممالک بھی اپنی جبین کو خم کرتے ہوئے نظر آرہے ہیں۔
اور سب سے زیادہ نقصان ان ممالک میں ہورہاہے جہاں اس وائرس کو معمولی سمجھ کرنظر انداز کیاگیا۔
فی الحال تو یہی کہوں گا کہ اپنے اور اہل خانہ کواس عالمی وباسے محفوظ رکھنے کے لئے احتیاطی تدابیر اختیار کی جائے، بصورت دیگر اسکے سنگین اور خطرناک منفی نتائج برآمد ہوسکتے ہیں کیونکہ کوویڈ19 کے علاج کیلئے ابھی تک کوئی بھی دوا تیار نہیں ہوپائی ہے جب تک اس کی کوئی دوا تیار نہیں ہوجاتی اس وقت تک ایسے مریضوں کے علاج کیلئے پلازمہ تھراپی بجھتے ہوئے چراغ کی ایک نئی روشنی ثابت ہورہی ہے۔