مظفرپور جنکشن پر مسافروں کو شدید مشکلات: لفٹ اور ایسکلیٹر خراب، بزرگ پریشان
مظفرپور جنکشن پر مسافروں کو ان دنوں شدید مشکلات کا سامنا ہے، جہاں پلیٹ فارم نمبر دو اور تین پر نصب لفٹ اور ایسکلیٹر کئی دنوں سے تکنیکی خرابی کے باعث بند پڑے ہیں۔ اس صورتحال نے خاص طور پر بزرگ شہریوں اور معذور مسافروں کے لیے پلیٹ فارمز تک پہنچنا انتہائی دشوار بنا دیا ہے۔ سیڑھیوں پر بڑھتی ہوئی بھیڑ اور دھکا مکی کی وجہ سے مسافروں کی پریشانی میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق، یہ مسئلہ کئی روز سے جاری ہے اور اس کے حل کے لیے کوئی ٹھوس اقدام نہیں کیا گیا ہے۔ لفٹ اور ایسکلیٹر کی عدم دستیابی کے باعث، بزرگ مسافروں کو پلیٹ فارم 2، 3، 4 اور 5 تک پہنچنے کے لیے بھاری سامان کے ساتھ سیڑھیاں چڑھنے پر مجبور ہونا پڑ رہا ہے، جو ان کی صحت اور حفاظت کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے۔
بدھ کے روز، سکندرپور کے ایک رہائشی بزرگ مسافر نے اپنی مجبوری کا اظہار کرتے ہوئے سمستی پور ریل ڈویژن کے ڈی آر ایم سمیت متعدد حکام سے شکایت کی۔ انہوں نے بتایا کہ انہیں جمعرات کو ٹرین سے سفر کرنا ہے، اور ان سہولیات کے بند ہونے کی صورت میں ان کا پلیٹ فارم تک پہنچنا تقریباً ناممکن ہو جائے گا۔ اس شکایت نے اس مسئلے کی سنگینی کو مزید اجاگر کیا ہے۔
پریشان حال مسافروں نے اسٹیشن ماسٹر کے سامنے بھی اپنی ناراضگی کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ریلوے انتظامیہ کو اس مسئلے پر فوری توجہ دینی چاہیے تاکہ مسافروں کو درپیش مشکلات کا ازالہ کیا جا سکے۔ مسافروں کا مطالبہ ہے کہ ان اہم سہولیات کو جلد از جلد فعال کیا جائے تاکہ انہیں آرام دہ اور محفوظ سفر کی سہولت میسر آ سکے۔
ریلوے حکام نے اس مسئلے کی تصدیق کی ہے اور بتایا ہے کہ یہ تکنیکی خرابی کی وجہ سے پیش آیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ متعلقہ ایجنسی کو اس بارے میں مطلع کر دیا گیا ہے اور مرمت کا کام جلد شروع ہونے کی امید ہے۔ تاہم، مسافروں کا کہنا ہے کہ ‘جلد’ کا انتظار ان کے لیے مزید پریشانی کا باعث بن رہا ہے اور وہ فوری حل چاہتے ہیں۔ مظفرپور جنکشن جیسے مصروف اسٹیشن پر ایسی بنیادی سہولیات کا بند ہونا مسافروں کے لیے ناقابل قبول ہے۔
دستبرداری: یہ خبر دستیاب مقامی ذرائع کی بنیاد پر مصنوعی ذہانت (AI) کی مدد سے تیار کی گئی ہے۔ AI سے غلطیاں ممکن ہیں اور اس مواد کی صحت یا اصلیت کی کوئی ضمانت نہیں دی جا سکتی۔ TheAinak صرف معلومات کو یکجا کرتا ہے اور اس کے مواد کا ذمہ دار نہیں ہے۔ قارئین سے گزارش ہے کہ کسی بھی معلومات پر بھروسہ کرنے یا اس پر عمل کرنے سے پہلے اس کی آزادانہ طور پر تصدیق ضرور کر لیں۔
