مقامی خبریں

ایم آئی ٹی مظفرپور میں داخلے کا عمل کل سے شروع: 540 سیٹوں پر ہوگا انجینئرنگ کا داخلہ

مظفرپور میں انجینئرنگ کے خواہشمند طلباء کے لیے اہم اطلاع

مظفرپور انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی (MIT) سمیت بہار کے تمام سرکاری انجینئرنگ کالجوں میں نئے تعلیمی سیشن کے لیے داخلہ کا عمل کل سے شروع ہونے جا رہا ہے۔ بہار کمبائنڈ انٹرنس کمپیٹیٹو ایگزامینیشن بورڈ (BCECEB) کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے بعد تمام کالجوں نے اپنی تیاریاں مکمل کر لی ہیں۔ اس سال ریاست بھر کے انجینئرنگ کالجوں میں کل 14,500 سیٹیں مختص کی گئی ہیں، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 1,500 زیادہ ہیں۔

ایم آئی ٹی میں نئے کورسز کا آغاز

مظفرپور کے معروف ایم آئی ٹی کالج میں اس بار 540 سیٹوں پر داخلہ لیا جائے گا۔ خاص بات یہ ہے کہ اس سال سے کالج میں ‘میتھمیٹکس اینڈ کمپیوٹنگ’ جیسے جدید اور دور حاضر کے تقاضوں سے ہم آہنگ کورسز کا آغاز کیا جا رہا ہے، جس سے طلباء کے لیے روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔

کونسلنگ اور داخلے کے ضوابط

داخلہ کا پہلا مرحلہ 7 سے 9 جولائی تک جاری رہے گا۔ انتظامیہ نے واضح کیا ہے کہ جن طلباء کو سیٹ الاٹ کی گئی ہے، ان کے لیے پہلے مرحلے کی کونسلنگ میں شرکت کرنا لازمی ہے۔ اگر کوئی طالب علم اس عمل سے غیر حاضر رہتا ہے، تو اس کی سیٹ خالی تصور کی جائے گی اور اسے داخلے کے لیے نااہل قرار دیا جائے گا۔ جن طلباء کو پہلے مرحلے میں سیٹ نہیں مل پاتی، وہ 20 اور 21 جولائی کو ہونے والے دوسرے مرحلے کا انتظار کر سکتے ہیں۔

بائیو میٹرک تصدیق اور دستاویزات

داخلے کے عمل کو شفاف اور محفوظ بنانے کے لیے سخت اقدامات کیے گئے ہیں۔ طلباء کو BCECEB یا ایم آئی ٹی کی ویب سائٹ سے ‘جانچ پرچی’ (Verification Slip) ڈاؤن لوڈ کر کے اسے مکمل تفصیلات کے ساتھ بھر کر لانا ہوگا۔ اس میں امیدوار کا نام، والد کا نام، جے ای ای رول نمبر اور آدھار کارڈ جیسی معلومات درج کرنی ہوں گی۔

مزید برآں، کسی بھی قسم کی جعل سازی کو روکنے کے لیے بائیو میٹرک تصدیق کو لازمی قرار دیا گیا ہے۔ اس کے لیے طلباء کو ایک الگ فارم پر اپنی آل انڈیا رینک اور آئی ڈی کی تفصیلات فراہم کرنی ہوں گی۔ داخلے کے وقت صرف تعلیمی قابلیت ہی نہیں، بلکہ امیدوار کی عمر، رہائشی اہلیت اور طبی فٹنس کا بھی باریک بینی سے جائزہ لیا جائے گا۔ طلباء کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ تمام ضروری دستاویزات کے ساتھ وقت پر کونسلنگ سینٹر پہنچیں۔


دستبرداری: یہ خبر دستیاب مقامی ذرائع کی بنیاد پر مصنوعی ذہانت (AI) کی مدد سے تیار کی گئی ہے۔ AI سے غلطیاں ممکن ہیں اور اس مواد کی صحت یا اصلیت کی کوئی ضمانت نہیں دی جا سکتی۔ TheAinak صرف معلومات کو یکجا کرتا ہے اور اس کے مواد کا ذمہ دار نہیں ہے۔ قارئین سے گزارش ہے کہ کسی بھی معلومات پر بھروسہ کرنے یا اس پر عمل کرنے سے پہلے اس کی آزادانہ طور پر تصدیق ضرور کر لیں۔

😃+

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button