مقامی خبریں

صاحب گنج کے رکن اسمبلی راجو سنگھ کی رکنیت پر تلوار لٹک گئی: دہلی سے پٹنہ تک درج ہیں 10 مقدمات

قانون کے شکنجے میں راجو سنگھ: اسمبلی رکنیت پر منڈلاتا خطرہ

صاحب گنج کے رکن اسمبلی راج کمار سنگھ عرف راجو سنگھ کی مشکلات میں اضافہ ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ دہلی کی ایک عدالت کی جانب سے غیر ارادی قتل اور آرمز ایکٹ کے ایک سنگین معاملے میں قصوروار ٹھہرائے جانے کے بعد، ان کی سیاسی حیثیت پر سوالیہ نشان لگ گیا ہے۔ قانونی ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر عدالت انہیں دو سال یا اس سے زائد قید کی سزا سناتی ہے، تو عوامی نمائندگی ایکٹ 1951 کے تحت ان کی اسمبلی رکنیت فوری طور پر ختم ہو سکتی ہے۔

مقدمات کی لمبی فہرست

راجو سنگھ پر صرف دہلی کا یہ معاملہ ہی نہیں، بلکہ ان کے خلاف دہلی، پٹنہ اور مظفر پور کے مختلف تھانوں میں کل 10 مقدمات درج ہیں۔ ان مقدمات کی تفصیلات خود انہوں نے گزشتہ اسمبلی انتخابات کے دوران الیکشن کمیشن کو دیے گئے حلف نامے میں ظاہر کی تھیں۔ ان پر درج الزامات کی نوعیت کافی سنگین ہے، جن میں درج ذیل شامل ہیں:

  • سرکاری ملازمین اور سی او (CO) کو دھمکیاں دینا اور مارپیٹ کرنا۔
  • ہتھیاروں کے زور پر دھمکانا۔
  • مظفر پور کے پارو تھانے میں چار الگ الگ مقدمات درج ہیں۔
  • صاحب گنج تھانے میں 2020 اور 2024 میں درج مقدمات۔
  • پٹنہ کے گاندھی میدان تھانے میں 2017 میں درج مارپیٹ کا کیس۔
  • مظفر پور کے نگر تھانے میں 2010 کا ایک پرانا معاملہ۔

قانونی پیچیدگیاں اور مستقبل

ماہرین قانون کا کہنا ہے کہ اگر سزا دو سال سے زیادہ ہوتی ہے تو رکنیت بچانے کے لیے صرف ہائی کورٹ میں اپیل دائر کرنا کافی نہیں ہوگا۔ اس کے لیے عدالت سے سزا پر فوری روک (اسٹی) حاصل کرنا لازمی ہے۔ ماضی میں کئی عوامی نمائندوں کے معاملے میں دیکھا گیا ہے کہ عدالتیں ایسے سنگین معاملات میں فوری راحت دینے سے گریز کرتی ہیں۔

دوسری جانب، ان مقدمات کی سست رفتاری بھی ایک بڑا مسئلہ ہے۔ صاحب گنج تھانے میں درج ایک معاملے میں دو سال گزرنے کے بعد بھی پولیس چارج شیٹ داخل نہیں کر سکی ہے، جبکہ چار دیگر مقدمات گواہوں کے نہ آنے کی وجہ سے التوا کا شکار ہیں۔ اب سب کی نظریں عدالت کے حتمی فیصلے پر ہیں، جو نہ صرف راجو سنگھ کے سیاسی مستقبل کا فیصلہ کرے گا بلکہ علاقے کی سیاست میں بھی بڑی تبدیلی لا سکتا ہے۔


دستبرداری: یہ خبر دستیاب مقامی ذرائع کی بنیاد پر مصنوعی ذہانت (AI) کی مدد سے تیار کی گئی ہے۔ AI سے غلطیاں ممکن ہیں اور اس مواد کی صحت یا اصلیت کی کوئی ضمانت نہیں دی جا سکتی۔ TheAinak صرف معلومات کو یکجا کرتا ہے اور اس کے مواد کا ذمہ دار نہیں ہے۔ قارئین سے گزارش ہے کہ کسی بھی معلومات پر بھروسہ کرنے یا اس پر عمل کرنے سے پہلے اس کی آزادانہ طور پر تصدیق ضرور کر لیں۔

😃+

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button