یوکرین پر روس کا اب تک کا سب سے بڑا فضائی حملہ: 11 افراد ہلاک، تباہی کا منظر
یوکرین میں روسی حملوں سے کہرام
روس اور یوکرین کے درمیان جاری کشیدگی ایک بار پھر خطرناک حد تک بڑھ گئی ہے۔ حالیہ دنوں میں روس کی جانب سے یوکرین کے مختلف شہروں کو نشانہ بناتے ہوئے اب تک کا سب سے بڑا فضائی حملہ کیا گیا ہے۔ اس حملے میں سینکڑوں ڈرونز اور درجنوں میزائلوں کا استعمال کیا گیا، جس کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر جانی و مالی نقصان کی اطلاعات ہیں۔
حملے کی تفصیلات
رپورٹس کے مطابق، روسی فوج نے ایک ساتھ 656 ڈرونز اور 73 میزائلوں کے ذریعے یوکرین کے بنیادی ڈھانچے اور رہائشی علاقوں کو ہدف بنایا۔ دارالحکومت کیئف سمیت کئی اہم شہروں میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں، جس سے عمارتیں لرز اٹھیں اور بجلی کا نظام بری طرح متاثر ہوا۔ اس حملے میں کم از کم 11 افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہوئی ہے، جبکہ درجنوں زخمیوں کو ہسپتال منتقل کیا گیا ہے۔
تباہی کا دائرہ کار
حملے کی شدت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ صرف 60 سیکنڈ کے وقفے میں چار میزائل داغے گئے، جس سے شہری علاقوں میں افراتفری پھیل گئی۔ ماہرین اسے ‘ڈبل ٹیپ’ حکمت عملی کا حصہ قرار دے رہے ہیں، جس کا مقصد امدادی کارروائیوں میں مصروف ٹیموں کو بھی نشانہ بنانا ہوتا ہے۔ مئی کے مہینے میں روس کی جانب سے 8,150 سے زائد ڈرونز کا استعمال کیا گیا، جو اس جنگ میں فضائی جارحیت کے نئے ریکارڈ کی نشاندہی کرتا ہے۔
عالمی ردعمل
اقوام متحدہ نے اس بڑے پیمانے پر ہونے والے حملے کی شدید مذمت کی ہے۔ عالمی برادری نے شہریوں کو نشانہ بنانے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کی ہے۔ تاہم، زمینی صورتحال بدستور کشیدہ ہے اور یوکرین کے مختلف حصوں میں ہنگامی حالت برقرار ہے۔
- حملے میں 11 شہریوں کی موت کی تصدیق۔
- بجلی اور مواصلاتی نظام کو شدید نقصان۔
- امدادی ٹیمیں ملبے تلے دبے افراد کو نکالنے میں مصروف۔
یہ حملہ اس بات کی یاد دہانی ہے کہ جنگ کے سائے میں عام شہریوں کی زندگی کس قدر غیر محفوظ ہو چکی ہے۔ آنے والے دنوں میں صورتحال مزید پیچیدہ ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
دستبرداری: یہ خبر دستیاب مقامی ذرائع کی بنیاد پر مصنوعی ذہانت (AI) کی مدد سے تیار کی گئی ہے۔ AI سے غلطیاں ممکن ہیں اور اس مواد کی صحت یا اصلیت کی کوئی ضمانت نہیں دی جا سکتی۔ TheAinak صرف معلومات کو یکجا کرتا ہے اور اس کے مواد کا ذمہ دار نہیں ہے۔ قارئین سے گزارش ہے کہ کسی بھی معلومات پر بھروسہ کرنے یا اس پر عمل کرنے سے پہلے اس کی آزادانہ طور پر تصدیق ضرور کر لیں۔
