مقامی خبریں

نالندہ میں استاد کی ریٹائرمنٹ، 70 بچوں کا مستقبل تاریک

نالندہ: بہار کے ضلع نالندہ میں ایک اسکول کی بندش نے 70 سے زائد بچوں کے تعلیمی مستقبل کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔ یہ صورتحال اس وقت پیدا ہوئی جب اسکول کے واحد استاد اپنی ملازمت سے ریٹائر ہو گئے۔ اس واقعے نے علاقے میں تعلیمی نظام کی خامیوں کو بے نقاب کر دیا ہے اور والدین میں شدید تشویش پائی جاتی ہے۔

تفصیلات کے مطابق، یہ اسکول نالندہ کے ایک دیہی علاقے میں واقع تھا اور طویل عرصے سے صرف ایک استاد کے بھروسے چل رہا تھا۔ اس استاد نے اپنی پوری لگن اور محنت سے بچوں کو تعلیم دی، لیکن ان کی ریٹائرمنٹ کے بعد اسکول کو چلانے والا کوئی نہیں رہا۔ اسکول کے بند ہونے سے نہ صرف موجودہ طلباء متاثر ہوئے ہیں بلکہ نئے داخلے کے خواہشمند بچوں کے والدین بھی پریشان ہیں۔

مقامی ذرائع کے مطابق، اسکول میں پہلی جماعت سے لے کر پانچویں جماعت تک کے بچے زیر تعلیم تھے۔ ان بچوں کا تعلق غریب اور متوسط طبقے کے خاندانوں سے ہے جو اپنے بچوں کو بہتر تعلیم دلانے کی امید میں اس اسکول پر انحصار کر رہے تھے۔ اب جب اسکول بند ہو چکا ہے، تو ان بچوں کے پاس تعلیم جاری رکھنے کے لیے کوئی متبادل راستہ نظر نہیں آ رہا ہے۔ قریبی علاقوں میں دوسرے اسکول یا تو بہت دور ہیں یا ان میں داخلے کی گنجائش نہیں ہے۔

والدین کا کہنا ہے کہ انہوں نے کئی بار تعلیمی حکام سے اسکول میں مزید اساتذہ کی تقرری کی درخواست کی تھی، لیکن ان کی درخواستوں پر کوئی توجہ نہیں دی گئی۔ ایک استاد کے ریٹائر ہونے کے بعد اسکول کا مکمل طور پر بند ہو جانا حکومتی تعلیمی پالیسیوں پر سوالیہ نشان لگاتا ہے۔ یہ صورتحال بہار کے دیہی علاقوں میں تعلیم کی ابتر حالت کی عکاسی کرتی ہے جہاں اساتذہ کی کمی ایک سنگین مسئلہ بنی ہوئی ہے۔

اس واقعے نے مقامی انتظامیہ اور محکمہ تعلیم پر دباؤ بڑھا دیا ہے کہ وہ اس مسئلے کا فوری حل تلاش کریں۔ بچوں کے مستقبل کو محفوظ بنانے کے لیے اسکول کو دوبارہ کھولنا اور مناسب تعداد میں اساتذہ کی تقرری کرنا انتہائی ضروری ہے۔ اگر اس مسئلے پر فوری توجہ نہ دی گئی تو ان 70 سے زائد بچوں کا تعلیمی سفر رک جائے گا اور ان کا مستقبل تاریکی میں ڈوب سکتا ہے۔ دیہی علاقوں میں تعلیم کی فراہمی کو یقینی بنانا حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہونا چاہیے۔


دستبرداری: یہ خبر دستیاب مقامی ذرائع کی بنیاد پر مصنوعی ذہانت (AI) کی مدد سے تیار کی گئی ہے۔ AI سے غلطیاں ممکن ہیں اور اس مواد کی صحت یا اصلیت کی کوئی ضمانت نہیں دی جا سکتی۔ TheAinak صرف معلومات کو یکجا کرتا ہے اور اس کے مواد کا ذمہ دار نہیں ہے۔ قارئین سے گزارش ہے کہ کسی بھی معلومات پر بھروسہ کرنے یا اس پر عمل کرنے سے پہلے اس کی آزادانہ طور پر تصدیق ضرور کر لیں۔

😃+

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button