بگہا کے ساگر سالوان نے فیشن کی دنیا میں گاڑے کامیابی کے جھنڈے، ‘آئی گلیم بہار’ میں جیت لیا خطاب
بگہا کا نوجوان اب قومی سطح پر دکھائے گا اپنا ہنر
بہار کے ضلع مغربی چمپارن کے شہر بگہا سے تعلق رکھنے والے نوجوان ساگر سالوان نے ماڈلنگ اور فیشن کی دنیا میں اپنی ایک الگ شناخت قائم کر لی ہے۔ حال ہی میں پٹنہ کے ہوٹل کلارکس ان میں منعقدہ ‘آئی گلیم بہار پیجنٹ 2026’ کے بارہویں ایڈیشن میں ساگر نے اپنی صلاحیتوں کا لوہا منواتے ہوئے فاتح کا تاج اپنے نام کیا ہے۔
اس باوقار مقابلے میں ریاست بھر سے آئے ہوئے سینکڑوں نوجوانوں نے حصہ لیا تھا، جہاں ساگر نے اپنے منفرد انداز اور اعتماد سے ججوں اور ناظرین کو متاثر کیا۔ انہیں نہ صرف فاتح قرار دیا گیا بلکہ ‘مسٹر ویژنری’ کے خصوصی سب ٹائٹل سے بھی نوازا گیا۔ یہ کامیابی نہ صرف ساگر کے لیے بلکہ پورے بگہا کے لیے ایک فخر کا لمحہ ہے۔
خاندان کی حمایت اور مستقبل کے عزائم
ساگر سالوان کے والد پرمود سالوان، جو بگہا کی تروپتی شوگر مل میں چیف انجینئر کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں، اپنے بیٹے کی اس کامیابی پر بے حد خوش ہیں۔ ساگر کا کہنا ہے کہ ان کے اہل خانہ نے ہمیشہ ان کے پروفیشن اور شوق کی بھرپور حوصلہ افزائی کی ہے، جس کی بدولت وہ آج اس مقام تک پہنچ پائے ہیں۔
اپنی جیت کے بعد ساگر نے اپنے مستقبل کے منصوبوں پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ان کا اگلا ہدف قومی سطح پر بہار کا نام روشن کرنا ہے۔ وہ اس کے لیے سخت محنت کر رہے ہیں اور انہیں یقین ہے کہ صحیح سمت میں کی گئی کوششیں انہیں جلد ہی بڑے پلیٹ فارم پر لے جائیں گی۔
مقابلے کا پس منظر
اس تقریب کی منتظم دیوجانی مترا نے بتایا کہ اس سال کے مقابلے کے لیے ملک بھر سے 250 سے زائد نوجوانوں نے رجسٹریشن کرایا تھا۔ ‘آئی گلیم’ کا بنیادی مقصد نوجوانوں کو فیشن اور ماڈلنگ کے شعبے میں ایک ایسا پلیٹ فارم فراہم کرنا ہے جہاں وہ اپنی چھپی ہوئی صلاحیتوں کو نکھار سکیں۔ گزشتہ بارہ برسوں سے یہ ادارہ مسلسل نئی نسل کو مواقع فراہم کر رہا ہے۔ اس گرینڈ فینالے میں فیشن انڈسٹری سے وابستہ کئی نامور ڈیزائنرز، ماڈلز اور فنکار موجود تھے جنہوں نے فاتحین کو ٹرافی اور سرٹیفکیٹ دے کر اعزاز سے نوازا۔
دستبرداری: یہ خبر دستیاب مقامی ذرائع کی بنیاد پر مصنوعی ذہانت (AI) کی مدد سے تیار کی گئی ہے۔ AI سے غلطیاں ممکن ہیں اور اس مواد کی صحت یا اصلیت کی کوئی ضمانت نہیں دی جا سکتی۔ TheAinak صرف معلومات کو یکجا کرتا ہے اور اس کے مواد کا ذمہ دار نہیں ہے۔ قارئین سے گزارش ہے کہ کسی بھی معلومات پر بھروسہ کرنے یا اس پر عمل کرنے سے پہلے اس کی آزادانہ طور پر تصدیق ضرور کر لیں۔