مٹیہانی کا تاریخی کھیل میدان: کروڑوں کی لاگت، پہلی ہی بارش میں تالاب بن گیا
بدعنوانی کی نذر ہوا کھلاڑیوں کا خواب
مٹیہانی کے آر کے ایل انٹر ماڈل اسکول کا کھیل کا میدان، جو کبھی مقامی نوجوانوں کے لیے کامیابی کی سیڑھی سمجھا جاتا تھا، آج اپنی بدحالی پر آنسو بہا رہا ہے۔ کروڑوں روپے کی لاگت سے تعمیر کیے گئے اس اسٹیڈیم کی قلعی پہلی ہی ہلکی بارش نے کھول کر رکھ دی ہے۔ میدان میں گھٹنوں تک پانی جمع ہونے سے یہ جگہ کھیل کے میدان کے بجائے ایک تالاب کا منظر پیش کر رہی ہے۔
زمینی حقائق اور انتظامی غفلت
مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ اس اسٹیڈیم کی تعمیر میں بڑے پیمانے پر مالی بے ضابطگیاں ہوئی ہیں۔ مٹی بھرائی کے نام پر سرکاری خزانے سے بھاری رقم نکالی گئی، لیکن حقیقت میں کام برائے نام کیا گیا۔ مقامی باشندوں کے مطابق، تقریباً 400 ٹریکٹر مٹی ڈالنے کا دعویٰ کیا گیا تھا، جبکہ موقع پر محض 30 سے 40 ٹریکٹر مٹی ڈال کر کام چلایا گیا۔ اس ناقص تعمیر کا خمیازہ آج ان نوجوانوں کو بھگتنا پڑ رہا ہے جو یہاں سے تربیت حاصل کر کے ریاستی اور قومی سطح پر اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا چکے ہیں۔
کھلاڑیوں میں شدید غم و غصہ
اسٹیڈیم کی خستہ حالی پر مقامی کھلاڑیوں اور نوجوانوں میں شدید برہمی پائی جاتی ہے۔ کھلاڑیوں کا الزام ہے کہ جب انہوں نے دس دن قبل اس تعمیراتی کام میں ہونے والی گڑبڑی کے خلاف آواز اٹھائی تھی، تو انہیں پولیس کے ذریعے ڈرانے دھمکانے کی کوشش کی گئی۔ نوجوانوں کا کہنا ہے کہ ایک طرف حکومت ‘میڈل لاؤ، نوکری پاؤ’ کا نعرہ لگاتی ہے، دوسری طرف کھلاڑیوں کو بنیادی سہولیات سے بھی محروم رکھا جا رہا ہے۔
مطالبات اور مستقبل
آدرش کمار، رویش کمار، آکاش چودھری اور دیگر کھلاڑیوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ اس پورے معاملے کی اعلیٰ سطحی تحقیقات کرائی جائے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ مٹی بھرائی کے نام پر ہونے والی مبینہ لوٹ مار کی رقم کی وصولی کی جائے اور اسٹیڈیم کو فوری طور پر معیاری بنایا جائے تاکہ نوجوان دوبارہ اپنے کھیلوں کی سرگرمیوں کو جاری رکھ سکیں۔ اگر انتظامیہ نے جلد کوئی ٹھوس قدم نہ اٹھایا تو مقامی سطح پر احتجاج کا دائرہ مزید وسیع ہو سکتا ہے۔
دستبرداری: یہ خبر دستیاب مقامی ذرائع کی بنیاد پر مصنوعی ذہانت (AI) کی مدد سے تیار کی گئی ہے۔ AI سے غلطیاں ممکن ہیں اور اس مواد کی صحت یا اصلیت کی کوئی ضمانت نہیں دی جا سکتی۔ TheAinak صرف معلومات کو یکجا کرتا ہے اور اس کے مواد کا ذمہ دار نہیں ہے۔ قارئین سے گزارش ہے کہ کسی بھی معلومات پر بھروسہ کرنے یا اس پر عمل کرنے سے پہلے اس کی آزادانہ طور پر تصدیق ضرور کر لیں۔
