مقامی خبریں

مظفرپور کے سب سے بڑے اسپتال میں آتشزدگی: آئی سی یو میں آگ لگنے سے 3 مریض جاں بحق، متعدد کی حالت تشویشناک

مظفرپور، بہار: مظفرپور کے سب سے بڑے اسپتال، پرساد اسپتال کے انتہائی نگہداشت یونٹ (آئی سی یو) میں جمعرات کی صبح تقریباً 3 بجے ایک خوفناک آگ بھڑک اٹھی، جس کے نتیجے میں کم از کم تین مریضوں کی موت ہو گئی اور کئی دیگر شدید زخمی ہو گئے۔ یہ واقعہ دہلی کے ایک ہوٹل میں ہونے والی آتشزدگی کے اگلے ہی دن پیش آیا، جس نے طبی اداروں میں حفاظتی انتظامات پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

ابتدائی معلومات کے مطابق، آئی سی یو میں 15 بستر تھے اور آگ لگنے کے بعد کمرے میں دھواں بھر جانے سے زیادہ تر ہلاکتیں دم گھٹنے سے ہوئیں۔ فائر ڈپارٹمنٹ کے اہلکاروں نے بتایا کہ 15 افراد کو بچایا گیا، جن میں سے تین کی موت کی تصدیق ہو چکی ہے۔ باقی 12 مریضوں کو فوری طور پر دیگر اسپتالوں میں منتقل کر دیا گیا ہے، جہاں ان کا علاج جاری ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ ہلاکتوں کی تعداد بڑھ سکتی ہے کیونکہ بچائے گئے کئی مریضوں کی حالت نازک ہے۔

فائر آفیسر رام نواس پانڈے نے بتایا کہ انہیں صبح تقریباً 3:55 پر اطلاع ملی اور فوری طور پر 6 فائر ٹرک موقع پر روانہ کیے گئے۔ فائر بریگیڈ اور پولیس کی ٹیموں نے مقامی لوگوں کی مدد سے آگ پر قابو پایا اور پھنسے ہوئے مریضوں کو بچانے کا کام شروع کیا۔

مظفرپور کے ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ نے تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ آئی سی یو میں 13 باقاعدہ بستر تھے اور دو اضافی بستر بھی رکھے گئے تھے۔ انہوں نے شبہ ظاہر کیا کہ آگ کی وجہ شارٹ سرکٹ ہو سکتا ہے، کیونکہ آئی سی یو میں آکسیجن مشینیں، ہارٹ مانیٹر اور دیگر طبی آلات موجود ہوتے ہیں۔ دھواں پھیلنے سے مریضوں کی حالت بگڑ گئی تھی۔ ریسکیو آپریشن مکمل کر لیا گیا ہے اور فی الحال صورتحال قابو میں ہے۔ آئی سی یو کے مریضوں کی سنگین حالت کے پیش نظر انہیں دوسرے اسپتالوں کے آئی سی یو میں منتقل کیا گیا ہے۔

اس واقعے کے بعد اسپتال انتظامیہ کی غیر موجودگی پر بھی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ اے بی پی نیوز کے نمائندے جب اسپتال پہنچے تو انتظامیہ کی جانب سے کوئی بھی ذمہ دار شخص بات کرنے کے لیے موجود نہیں تھا۔ یہاں تک کہ وہاں موجود سیکیورٹی گارڈز بھی اپنی یونیفارم اتار کر عام لباس میں گھوم رہے تھے تاکہ ان کی شناخت نہ ہو سکے۔ یہ صورتحال اسپتال کی ذمہ داری اور جوابدہی پر مزید سوالات پیدا کرتی ہے۔

اس دلخراش واقعے نے مظفرپور کے طبی نظام میں حفاظتی پروٹوکول اور ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کی تیاریوں کی خامیوں کو بے نقاب کر دیا ہے۔


دستبرداری: یہ خبر دستیاب مقامی ذرائع کی بنیاد پر مصنوعی ذہانت (AI) کی مدد سے تیار کی گئی ہے۔ AI سے غلطیاں ممکن ہیں اور اس مواد کی صحت یا اصلیت کی کوئی ضمانت نہیں دی جا سکتی۔ TheAinak صرف معلومات کو یکجا کرتا ہے اور اس کے مواد کا ذمہ دار نہیں ہے۔ قارئین سے گزارش ہے کہ کسی بھی معلومات پر بھروسہ کرنے یا اس پر عمل کرنے سے پہلے اس کی آزادانہ طور پر تصدیق ضرور کر لیں۔

😃+

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button