مظفرپور میں کوڑا پھیلانے والوں کی اب خیر نہیں: بجلی اور پانی کا کنکشن کٹنے کا انتباہ
انتظامیہ کا سخت ایکشن: کوڑا انتظام کے نئے ضابطے نافذ
شہر اور مضافاتی علاقوں میں بڑھتے ہوئے کچرے کے ڈھیروں اور صفائی کے ناقص نظام پر قابو پانے کے لیے ضلعی انتظامیہ نے اب کمر کس لی ہے۔ سپریم کورٹ کی جانب سے ٹھوس فضلہ جات کے انتظام (سالڈ ویسٹ مینجمنٹ) کے حوالے سے جاری کردہ سخت ہدایات کے بعد، ضلع میں ایک خصوصی 11 رکنی سیل تشکیل دیا گیا ہے۔ اس سیل کا بنیادی مقصد شہر کے بڑے کوڑا پیدا کرنے والے اداروں اور تجارتی مراکز کی نگرانی کرنا اور قوانین کی خلاف ورزی پر سخت کارروائی کرنا ہے۔
بجلی اور پانی کی سہولیات پر کٹاؤ کا خطرہ
انتظامیہ نے واضح کیا ہے کہ اگر کوئی بھی ادارہ یا بڑا کوڑا پیدا کرنے والا مرکز کچرے کو ٹھکانے لگانے کے طے شدہ اصولوں کی خلاف ورزی کرتا پایا گیا، تو ان کے خلاف فوری کارروائی کی جائے گی۔ اس کارروائی کے تحت ان کی بجلی اور پانی کی سپلائی منقطع کرنے تک کا اختیار اس خصوصی سیل کو دیا گیا ہے۔ یہ اقدام شہر کو صاف ستھرا بنانے اور ماحولیاتی آلودگی کو کم کرنے کی ایک بڑی کوشش کا حصہ ہے۔
کون شامل ہے اس خصوصی سیل میں؟
اس خصوصی سیل کی سربراہی خود ضلع مجسٹریٹ (DM) کریں گے۔ اس ٹیم میں انتظامی اور تکنیکی ماہرین کی ایک بڑی تعداد شامل کی گئی ہے تاکہ نگرانی کا عمل شفاف اور موثر رہے۔ سیل کے اہم اراکین میں درج ذیل شامل ہیں:
- ڈسٹرکٹ ڈویلپمنٹ کمشنر (DDC) اور میونسپل کمشنر۔
- محکمہ جنگلات کے ڈویژنل افسر اور ڈسٹرکٹ پنچایت راج افسر۔
- بہار اسٹیٹ پولوشن کنٹرول بورڈ کے علاقائی افسران۔
- تمام نگر پریشد اور نگر پنچایتوں کے ایگزیکٹو افسران (EO)۔
- پی ایچ ای ڈی (PHED) کے ایگزیکٹو انجینئرز (مظفرپور اور موتی پور)۔
- بڈکو (BUDCO) کے پروجیکٹ ڈائریکٹر اور تمام بلاک ڈویلپمنٹ افسران (BDO)۔
سپریم کورٹ نے مئی 2026 میں اپنے ایک حکم نامے میں تمام اضلاع کو ہدایت دی تھی کہ وہ فضلہ جات کے انتظام کے قوانین پر سختی سے عمل درآمد کروائیں۔ اسی تناظر میں مظفرپور انتظامیہ نے یہ قدم اٹھایا ہے تاکہ شہر کو کچرے کے بحران سے نجات دلائی جا سکے۔ انتظامیہ نے تمام متعلقہ اداروں کو ہدایت دی ہے کہ وہ اپنے کوڑے کو ٹھکانے لگانے کے لیے مقررہ ضابطوں کا فوری طور پر نفاذ یقینی بنائیں۔
دستبرداری: یہ خبر دستیاب مقامی ذرائع کی بنیاد پر مصنوعی ذہانت (AI) کی مدد سے تیار کی گئی ہے۔ AI سے غلطیاں ممکن ہیں اور اس مواد کی صحت یا اصلیت کی کوئی ضمانت نہیں دی جا سکتی۔ TheAinak صرف معلومات کو یکجا کرتا ہے اور اس کے مواد کا ذمہ دار نہیں ہے۔ قارئین سے گزارش ہے کہ کسی بھی معلومات پر بھروسہ کرنے یا اس پر عمل کرنے سے پہلے اس کی آزادانہ طور پر تصدیق ضرور کر لیں۔
