کپرپورہ ریلوے گیٹ نمبر 107 (سی) کی بحالی: تین ماہ بعد عوام کو بڑی راحت
کپرپورہ کے مکینوں کے لیے خوشخبری
ضلع مظفر پور کے کاونٹی بلاک کے تحت آنے والی کپرپورہ ریلوے گمٹی نمبر 107 (سی) کو تین ماہ کی طویل بندش کے بعد بالآخر دوبارہ کھول دیا گیا ہے۔ اس گیٹ کے کھلنے سے علاقے کے ایک درجن سے زائد دیہاتوں کے مکینوں نے سکھ کا سانس لیا ہے۔ ہفتہ کے روز ایک پروقار تقریب کے دوران مقامی عوامی نمائندوں کی موجودگی میں اس راستے کو ٹریفک کے لیے بحال کر دیا گیا۔
عوامی مشکلات اور طویل جدوجہد
یاد رہے کہ رواں سال 25 فروری کی درمیانی شب اچانک اس ریلوے گیٹ کو بند کر دیا گیا تھا، جس کی وجہ سے مقامی آبادی کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا تھا۔ یہ راستہ نہ صرف مقامی نقل و حمل کے لیے اہم ہے بلکہ پرانے صاحب گنج روڈ کا ایک کلیدی حصہ بھی ہے۔ گیٹ بند ہونے کے بعد سے ہی مقامی باشندوں نے ضلعی انتظامیہ سے لے کر ریلوے حکام تک اپنی آواز پہنچانے کا سلسلہ شروع کر دیا تھا۔
نمائندوں کا ردعمل
گیٹ کے افتتاح کے موقع پر ویشالی کی رکن پارلیمنٹ وینا دیوی، کاونٹی کے رکن اسمبلی انجینئر اجیت کمار اور کاونٹی کے پرمکھ کرپا شنکر شاہی موجود تھے۔ وینا دیوی نے اس موقع پر کہا کہ عوامی مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے ریلوے حکام سے مسلسل رابطہ کیا گیا، جس کے نتیجے میں یہ کامیابی حاصل ہوئی۔ انہوں نے اس اقدام کے لیے مرکزی وزیر ریلوے اشونی ویشنو کا شکریہ ادا کیا۔
وہیں، رکن اسمبلی انجینئر اجیت کمار نے کہا کہ یہ عوام کی جیت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے مسلسل اس مسئلے کو اٹھایا تاکہ طلباء، مریضوں اور عام شہریوں کو درپیش مشکلات کا خاتمہ ہو سکے۔
کون سے علاقے مستفید ہوں گے؟
اس ریلوے گیٹ کے دوبارہ کھلنے سے درج ذیل علاقوں کے لوگوں کو براہ راست فائدہ پہنچے گا:
- سادات پور
- بجھلا جگدیش پور
- شہباز پور
- شیر پور
- مبارک پور
- شیرنا
- کاونٹی سمیت دیگر ملحقہ دیہات
افتتاح کے موقع پر مقامی لوگوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی اور لوگوں نے ایک دوسرے کو مٹھائیاں کھلا کر اس بحالی کا جشن منایا۔ اب امید کی جا رہی ہے کہ اس راستے پر ٹریفک کا دباؤ معمول کے مطابق رہے گا اور لوگوں کو اپنے روزمرہ کے کاموں میں مزید دشواری نہیں ہوگی۔
دستبرداری: یہ خبر دستیاب مقامی ذرائع کی بنیاد پر مصنوعی ذہانت (AI) کی مدد سے تیار کی گئی ہے۔ AI سے غلطیاں ممکن ہیں اور اس مواد کی صحت یا اصلیت کی کوئی ضمانت نہیں دی جا سکتی۔ TheAinak صرف معلومات کو یکجا کرتا ہے اور اس کے مواد کا ذمہ دار نہیں ہے۔ قارئین سے گزارش ہے کہ کسی بھی معلومات پر بھروسہ کرنے یا اس پر عمل کرنے سے پہلے اس کی آزادانہ طور پر تصدیق ضرور کر لیں۔
