مظفر پور ہسپتال آتشزدگی: پپو یادو کا حکومت سے سخت سوال، صحت کے نظام پر اٹھائے سنگین سوالات
مظفر پور کے پرشاد ہسپتال میں پیش آنے والے المناک آتشزدگی کے واقعے نے پورے علاقے کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ اس حادثے میں چھ مریضوں کی جانیں ضائع ہوئیں، جس کے بعد سے مقامی سطح پر انتظامیہ اور محکمہ صحت کی کارکردگی پر شدید تنقید کی جا رہی ہے۔ واقعے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے پورنیہ کے رکن پارلیمنٹ پپو یادو نے جائے وقوعہ کا دورہ کیا اور متاثرہ خاندانوں سے ملاقات کی۔
انتظامیہ کی لاپرواہی پر برہمی
پپو یادو نے ہسپتال پہنچ کر وہاں موجود حفاظتی انتظامات کا جائزہ لیا اور اسے مکمل طور پر ناکام قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ ہسپتالوں میں آگ سے بچاؤ کے مناسب انتظامات نہ ہونا ایک مجرمانہ غفلت ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ آخر مریضوں کی زندگیوں کے ساتھ کھلواڑ کرنے کی اجازت کس نے دی؟ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اس واقعے کی شفاف تحقیقات ہونی چاہیے تاکہ ذمہ داروں کا تعین کیا جا سکے۔
صحت کے نظام پر سوال
اپنے دورے کے دوران پپو یادو نے ریاستی حکومت اور اعلیٰ حکام سے اپیل کی کہ وہ اس معاملے میں فوری مداخلت کریں۔ انہوں نے کہا کہ بہار میں صحت کا نظام وینٹی لیٹر پر ہے اور اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو ایسے واقعات کا اعادہ ہوتا رہے گا۔ انہوں نے حکام سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ عوام کی جانوں کی حفاظت حکومت کی اولین ترجیح ہونی چاہیے۔
- واقعے کی اعلیٰ سطحی تحقیقات کا مطالبہ۔
- قصورواروں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی ضرورت۔
- ہسپتالوں میں فائر سیفٹی آڈٹ کو لازمی قرار دینے پر زور۔
اس واقعے نے ایک بار پھر یہ ثابت کر دیا ہے کہ نجی ہسپتالوں میں مریضوں کی حفاظت کے لیے بنائے گئے قوانین پر عمل درآمد کی سخت نگرانی کی ضرورت ہے۔ مقامی لوگ اب اس بات کا مطالبہ کر رہے ہیں کہ نہ صرف اس واقعے کے ذمہ داروں کو سزا دی جائے بلکہ مستقبل میں ایسے حادثات کو روکنے کے لیے ٹھوس لائحہ عمل تیار کیا جائے۔
دستبرداری: یہ خبر دستیاب مقامی ذرائع کی بنیاد پر مصنوعی ذہانت (AI) کی مدد سے تیار کی گئی ہے۔ AI سے غلطیاں ممکن ہیں اور اس مواد کی صحت یا اصلیت کی کوئی ضمانت نہیں دی جا سکتی۔ TheAinak صرف معلومات کو یکجا کرتا ہے اور اس کے مواد کا ذمہ دار نہیں ہے۔ قارئین سے گزارش ہے کہ کسی بھی معلومات پر بھروسہ کرنے یا اس پر عمل کرنے سے پہلے اس کی آزادانہ طور پر تصدیق ضرور کر لیں۔
