مظفرپور جنکشن پر مسافروں کی اذیت: اسپیشل ٹرین 7 گھنٹے تاخیر سے روانہ
شدید گرمی میں مسافروں کا برا حال
مظفرپور ریلوے اسٹیشن پر جمعرات کا دن مسافروں کے لیے امتحان بن گیا۔ آنند وہار ٹرمینل جانے والی اسپیشل ٹرین (04029) کی غیر معمولی تاخیر نے مسافروں کو شدید مشکلات میں مبتلا کر دیا۔ صبح 6 بجے روانہ ہونے والی یہ ٹرین تقریباً 7 گھنٹے کی تاخیر کے بعد دوپہر 1:30 بجے پلیٹ فارم سے روانہ ہو سکی۔
انتظامی لاپرواہی اور مسافروں کا غصہ
اس طویل تاخیر کے دوران اسٹیشن پر موجود مسافروں میں ریلوے انتظامیہ کے خلاف شدید غم و غصہ پایا گیا۔ مسافروں کا کہنا ہے کہ انہیں ٹرین کے وقت کے بارے میں درست معلومات فراہم نہیں کی گئیں۔ انکوائری کاؤنٹر اور ڈیجیٹل ڈسپلے بورڈز پر بار بار وقت تبدیل ہونے کی وجہ سے مسافروں میں الجھن اور بے یقینی کی کیفیت برقرار رہی۔
بچے، بزرگ اور خواتین سب سے زیادہ متاثر
اسٹیشن پر موجود شدید حبس اور گرمی نے مسافروں کی تکلیف کو دوچند کر دیا۔ خاص طور پر چھوٹے بچوں، بزرگوں اور خواتین کو پلیٹ فارم پر بیٹھنے کی جگہ نہ ملنے اور پینے کے پانی کی قلت کے باعث سخت اذیت کا سامنا کرنا پڑا۔ لوگ پنکھوں کی ہوا کے لیے ادھر ادھر بھٹکتے نظر آئے، جبکہ سامان کے ساتھ طویل انتظار نے ان کی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا۔
مسافروں کا مطالبہ
مسافروں کا کہنا ہے کہ تہواروں یا رش کے موقع پر چلائی جانے والی اسپیشل ٹرینوں کا وقت پر نہ چلنا اب ایک معمول بن چکا ہے۔ اس طرح کی بدانتظامی سے نہ صرف وقت کا ضیاع ہوتا ہے بلکہ مسافروں کو مالی اور جسمانی نقصان بھی اٹھانا پڑتا ہے۔ ریلوے حکام کو چاہیے کہ وہ مسافروں کی سہولت کے لیے ٹرینوں کی آمد و رفت کے نظام کو بہتر بنائیں اور کسی بھی تبدیلی کی صورت میں بروقت اور درست معلومات فراہم کرنے کا موثر انتظام کریں۔
دستبرداری: یہ خبر دستیاب مقامی ذرائع کی بنیاد پر مصنوعی ذہانت (AI) کی مدد سے تیار کی گئی ہے۔ AI سے غلطیاں ممکن ہیں اور اس مواد کی صحت یا اصلیت کی کوئی ضمانت نہیں دی جا سکتی۔ TheAinak صرف معلومات کو یکجا کرتا ہے اور اس کے مواد کا ذمہ دار نہیں ہے۔ قارئین سے گزارش ہے کہ کسی بھی معلومات پر بھروسہ کرنے یا اس پر عمل کرنے سے پہلے اس کی آزادانہ طور پر تصدیق ضرور کر لیں۔
