مقامی خبریں

مظفرپور: ہوٹل کاروباری کو ہنی ٹریپ میں پھنسانے کی سازش، ڈیپ فیک ویڈیو کے ذریعے ڈیڑھ کروڑ کا مطالبہ

ہوٹل میں نوکری کا جھانسہ دے کر شروع ہوا بلیک میلنگ کا کھیل

مظفرپور کے ایک کاروباری کو ہنی ٹریپ میں پھنسا کر کروڑوں روپے بٹورنے کا ایک سنگین معاملہ سامنے آیا ہے۔ پٹنہ میں ہوٹل کا کاروبار کرنے والے نتیش کمار سنگھ کو اہیاپور کے رہائشی ابھیشیک کمار اور اس کی ساتھی ادیتی راج نے ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت اپنا شکار بنایا۔ ملزمان نے کاروباری سے ڈیڑھ کروڑ روپے کی بھتہ خوری کا منصوبہ تیار کیا تھا۔

ڈیپ فیک ٹیکنالوجی کا غلط استعمال

تحقیقات سے پتہ چلا ہے کہ ابھیشیک نے اپنی گرل فرینڈ ادیتی راج کو نتیش کے ہوٹل میں ملازمت دلوائی تھی۔ ملازمت کے دوران ادیتی نے کاروباری کے ساتھ دوستی بڑھائی اور خفیہ طور پر ان کی تصاویر حاصل کر لیں۔ اس کے بعد ابھیشیک اور اس کے ساتھی پنکج نے اے آئی (AI) ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے ان تصاویر اور ویڈیوز کو ایڈٹ کر کے انہیں فحش شکل دے دی۔ اسی مواد کو بنیاد بنا کر کاروباری کو بلیک میل کرنا شروع کیا گیا۔

پولیس کی کارروائی اور ٹریکر کا انکشاف

کاروباری نے اپنی شکایت میں بتایا کہ ملزمان نے دھمکی دی تھی کہ اگر رقم نہیں دی گئی تو وہ یہ مواد سوشل میڈیا پر وائرل کر دیں گے۔ دباؤ میں آکر کاروباری نے پہلے 15 لاکھ اور بعد میں مزید بڑی رقم ادا کی۔ تاہم، شک ہونے پر انہوں نے نوٹوں کے بنڈل میں ایک ٹریکر چھپا دیا تھا۔ جب پولیس نے ابھیشیک کے گھر چھاپہ مارا تو وہاں سے 20 لاکھ روپے برآمد ہوئے، جس کے بعد بلیک میلنگ کا یہ پورا نیٹ ورک بے نقاب ہو گیا۔

تفتیش کا دائرہ کار

فی الحال ابھیشیک، ادیتی اور پنکج مفرور ہیں، جن کی تلاش میں پولیس کی ٹیمیں سرگرم ہیں۔ پولیس نے ابھیشیک کے والد راکیش کو بھی حراست میں لے کر پوچھ گچھ کی ہے، کیونکہ ان پر ملزمان کو فرار ہونے میں مدد کرنے کا شبہ ہے۔ سٹی ایس پی موہیب اللہ انصاری نے تصدیق کی ہے کہ معاملے کی گہرائی سے جانچ کی جا رہی ہے اور باقی رقم کی بازیابی کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔ اس واقعے نے ڈیجیٹل دور میں سیکیورٹی اور پرائیویسی کے خطرات کو ایک بار پھر اجاگر کر دیا ہے۔


دستبرداری: یہ خبر دستیاب مقامی ذرائع کی بنیاد پر مصنوعی ذہانت (AI) کی مدد سے تیار کی گئی ہے۔ AI سے غلطیاں ممکن ہیں اور اس مواد کی صحت یا اصلیت کی کوئی ضمانت نہیں دی جا سکتی۔ TheAinak صرف معلومات کو یکجا کرتا ہے اور اس کے مواد کا ذمہ دار نہیں ہے۔ قارئین سے گزارش ہے کہ کسی بھی معلومات پر بھروسہ کرنے یا اس پر عمل کرنے سے پہلے اس کی آزادانہ طور پر تصدیق ضرور کر لیں۔

😃+

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button