مقامی خبریں

مظفرپور سے چل رہا تھا ملک گیر سائبر نیٹ ورک: ماسٹر مائنڈ کی تلاش میں چھاپے

سائبر کرائم کا گڑھ بنتا مظفرپور: پولیس کی بڑی کارروائی

مظفرپور کے بوچاہاں علاقے سے جڑے ایک بڑے سائبر فراڈ نیٹ ورک کا انکشاف ہوا ہے، جس نے پورے ملک میں ہلچل مچا دی ہے۔ پولیس کی اسپیشل سائبر یونٹ نے ایک اہم کامیابی حاصل کرتے ہوئے اس گروہ کے نیٹ ورک کو توڑنے کے لیے کمر کس لی ہے۔ اس معاملے میں سوہل کمار تیواری کی گرفتاری کے بعد تفتیش کا دائرہ کار وسیع ہو گیا ہے اور پولیس اب اس گروہ کے سرغنہ پریاںشو راج تک پہنچنے کی کوشش کر رہی ہے۔

پٹنہ سے آپریٹ ہو رہا تھا پورا کھیل

ابتدائی تفتیش سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ اس پورے نیٹ ورک کا ماسٹر مائنڈ پریاںشو راج ہے، جو پٹنہ میں بیٹھ کر پورے ملک میں سائبر ٹھگی کا جال بچھا رہا تھا۔ اس گروہ کی کارستانیوں کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ صرف تین بینک کھاتوں (سوہل ٹریڈرز اور روپا کماری کے نام پر) کے خلاف ملک بھر میں 82 شکایات درج ہیں۔ پولیس اب ان کھاتوں کی فرانزک آڈٹ کروا رہی ہے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ اس فراڈ کے ذریعے کتنے کروڑ روپے کی رقم ہڑپی گئی ہے۔

غریبوں کو بنایا گیا مہرہ

اس کیس کا سب سے افسوسناک پہلو یہ ہے کہ ماسٹر مائنڈ نے اپنے ہی گاؤں کے سادہ لوح اور غریب لوگوں کو چند روپوں کا لالچ دے کر ان کے نام پر بینک کھاتے کھلوائے تھے۔ ان کھاتوں کا استعمال ملک کے مختلف حصوں جیسے مہاراشٹر، کرناٹک اور گجرات کے لوگوں کو لوٹنے کے لیے کیا جاتا تھا۔ پولیس نے ان تمام کھاتوں کو منجمد کرنے کی کارروائی شروع کر دی ہے جن میں لوٹی ہوئی رقم منتقل کی گئی تھی۔

آگے کی کارروائی

سائبر تھانہ کی ٹیم اب پریاںشو راج اور روپا کماری کی گرفتاری کے لیے پٹنہ سمیت کئی مقامات پر چھاپے مار رہی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ پریاںشو نے غیر قانونی کمائی سے جو جائیدادیں اور مہنگی گاڑیاں بنائی ہیں، انہیں بھی ضبط کرنے کی قانونی تیاری کی جا رہی ہے۔ حکام کو امید ہے کہ مرکزی ملزم کی گرفتاری کے بعد ملک کے دیگر بڑے سائبر مجرموں کے نام بھی سامنے آئیں گے، جس سے اس نیٹ ورک کی کمر ٹوٹ جائے گی۔


دستبرداری: یہ خبر دستیاب مقامی ذرائع کی بنیاد پر مصنوعی ذہانت (AI) کی مدد سے تیار کی گئی ہے۔ AI سے غلطیاں ممکن ہیں اور اس مواد کی صحت یا اصلیت کی کوئی ضمانت نہیں دی جا سکتی۔ TheAinak صرف معلومات کو یکجا کرتا ہے اور اس کے مواد کا ذمہ دار نہیں ہے۔ قارئین سے گزارش ہے کہ کسی بھی معلومات پر بھروسہ کرنے یا اس پر عمل کرنے سے پہلے اس کی آزادانہ طور پر تصدیق ضرور کر لیں۔

😃+

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button