مظفرپور: زہریلی شراب سے ہلاکتوں کے بعد دو اے ایس آئی معطل، محکمہ کی بڑی کارروائی
مظفرپور: مشرقی چمپارن ضلع میں گزشتہ ماہ زہریلی شراب پینے سے دس افراد کی ہلاکت کے معاملے میں محکمہ ایکسائز نے سخت کارروائی کرتے ہوئے دو اسسٹنٹ سب انسپکٹرز (اے ایس آئی) کو معطل کر دیا ہے۔ یہ کارروائی تحقیقات کے بعد سامنے آنے والے حقائق اور محکمہ ایکسائز، دربھنگہ کے ڈپٹی کمشنر کی سفارش پر کی گئی ہے۔
معطل ہونے والے اے ایس آئی میں رنجیت کمار اور روشنی کماری شامل ہیں، جو موتیہاری کے ایکسائز تھانے میں تعینات تھے۔ ان کی معطلی فوری طور پر نافذ العمل ہو گئی ہے اور معطلی کی مدت کے دوران ان کا ہیڈکوارٹر مظفرپور میں ایکسائز گروپ سینٹر مقرر کیا گیا ہے۔
واقعہ کی تفصیلات
گزشتہ اپریل میں رگھوناتھ پور اور ترکولیہ تھانہ علاقوں کے گاؤں پرسونا، گدریا اور بال گنگا میں زہریلی شراب پینے سے دس افراد کی جان چلی گئی تھی۔ اس واقعے میں درجنوں دیگر افراد بھی شدید بیمار ہوئے تھے جنہیں مختلف ہسپتالوں میں علاج کے لیے داخل کرایا گیا تھا۔
واقعہ کے بعد محکمہ ایکسائز نے موتیہاری ایکسائز تھانے میں تعینات اے ایس آئی روشنی کماری اور رنجیت کمار سے وضاحت طلب کی تھی۔ اس کے ساتھ ہی، محکمہ ایکسائز، دربھنگہ کے ڈپٹی کمشنر کو معاملے کی تحقیقات سونپی گئی تھی۔ ڈپٹی کمشنر نے جائے وقوعہ کا دورہ کیا اور وہاں سے غیر قانونی اسپرٹ کے نمونے جمع کیے۔
تحقیقاتی رپورٹ کے انکشافات
تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی کہ موتیہاری ایکسائز تھانہ کئی ماہ سے شراب اور اسپرٹ کے غیر قانونی کاروبار کی جانچ نہیں کر رہا تھا۔ تھانے کو اس معاملے میں نہ تو کوئی خفیہ اطلاع ملی اور نہ ہی اس نے کوئی احتیاطی یا روک تھام کے اقدامات کیے۔
اس سے بھی زیادہ تشویشناک بات یہ ہے کہ جائے وقوعہ سے ضبط کی گئی اسپرٹ میں میتھانول کی بھاری مقدار پائی گئی، جو انسانی زندگی کے لیے انتہائی خطرناک ہے۔ محکمہ نے دونوں اے ایس آئی کی جانب سے پیش کردہ وضاحت کو ناقابل قبول قرار دیا ہے۔
بالآخر، محکمہ ایکسائز کے جوائنٹ سیکرٹری سنجے کمار نے جمعہ کو دونوں اے ایس آئی کو معطل کرنے کا حکم جاری کیا۔ یہ کارروائی ریاست میں غیر قانونی شراب کے کاروبار پر قابو پانے اور ذمہ داروں کو جوابدہ ٹھہرانے کے عزم کی عکاسی کرتی ہے۔
دستبرداری: یہ خبر دستیاب مقامی ذرائع کی بنیاد پر مصنوعی ذہانت (AI) کی مدد سے تیار کی گئی ہے۔ AI سے غلطیاں ممکن ہیں اور اس مواد کی صحت یا اصلیت کی کوئی ضمانت نہیں دی جا سکتی۔ TheAinak صرف معلومات کو یکجا کرتا ہے اور اس کے مواد کا ذمہ دار نہیں ہے۔ قارئین سے گزارش ہے کہ کسی بھی معلومات پر بھروسہ کرنے یا اس پر عمل کرنے سے پہلے اس کی آزادانہ طور پر تصدیق ضرور کر لیں۔
