مقامی خبریں

مظفرپور: بھانجی کی شادی میں ماموں کو گولی لگی، موقع پر ہی ہلاک

مظفرپور کے کرجا تھانہ علاقے میں ایک شادی کی تقریب اس وقت ماتم میں بدل گئی جب فائرنگ کے ایک واقعے میں دلہن کے ماموں رنجیت سہنی ہلاک ہو گئے۔ یہ واقعہ بھٹونا گاؤں میں پیش آیا جہاں رنجیت سہنی اپنی بھانجی کی شادی میں شرکت کے لیے آئے ہوئے تھے۔

پولیس کے مطابق، یہ واقعہ اتوار اور پیر کی درمیانی شب تقریباً ڈھائی بجے پیش آیا۔ شادی کی رسومات جاری تھیں کہ اچانک فائرنگ کی آواز سنائی دی اور رنجیت سہنی کو سر میں گولی لگ گئی۔ گولی لگتے ہی وہ موقع پر ہی دم توڑ گئے۔ اس واقعے کے بعد شادی کی تقریب میں افراتفری مچ گئی اور لوگوں میں خوف و ہراس پھیل گیا۔

واقعہ کی تفصیلات اور پولیس کی کارروائی

اطلاع ملتے ہی کرجا تھانہ کی پولیس فوراً جائے وقوعہ پر پہنچی۔ پولیس نے خون میں لت پت لاش کو اپنی تحویل میں لے کر پوسٹ مارٹم کے لیے ایس کے ایم سی ایچ بھیج دیا۔ جائے وقوعہ کے معائنے کے دوران پولیس کو کارتوس کے خالی خول ملے ہیں جنہیں ضبط کر لیا گیا ہے۔ ان خولوں کی بنیاد پر پولیس فائرنگ میں استعمال ہونے والے ہتھیار اور اس میں ملوث افراد کی شناخت کی کوشش کر رہی ہے۔

متوفی کی شناخت مشہری تھانہ علاقے کے تارورا کے رہائشی 30 سالہ رنجیت سہنی کے طور پر ہوئی ہے۔ وہ نتیش سہنی کی بیٹی کی شادی میں شرکت کے لیے بھٹونا گاؤں آئے ہوئے تھے۔ بارات کانٹی تھانہ علاقے کے اررا گاؤں سے آئی تھی۔

پوسٹ مارٹم رپورٹ اور تحقیقات

ایس کے ایم سی ایچ میں پوسٹ مارٹم کے دوران ڈاکٹروں کو رنجیت سہنی کے سر میں گولی پھنسی ہوئی ملی ہے۔ ڈاکٹروں نے گولی کو محفوظ کر لیا ہے اور پولیس کی درخواست پر اسے تفتیش کے لیے فراہم کیا جائے گا۔

کرجا تھانہ انچارج نے بتایا کہ متوفی کے اہل خانہ کے بیان کی بنیاد پر نامعلوم افراد کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا ہے اور مزید کارروائی جاری ہے۔ انہوں نے یقین دلایا کہ جلد ہی ملزمان کی شناخت کر کے انہیں گرفتار کر لیا جائے گا۔ پولیس شادی کی تقریب میں موجود لوگوں سے بھی پوچھ گچھ کر رہی ہے تاکہ فائرنگ کرنے والے کی شناخت کی جا سکے۔ فی الحال، یہ واضح نہیں ہو سکا ہے کہ گولی کس نے اور کس سمت سے چلائی تھی۔ پوسٹ مارٹم رپورٹ اور تکنیکی شواہد کی بنیاد پر مزید کارروائی کی جائے گی۔


دستبرداری: یہ خبر دستیاب مقامی ذرائع کی بنیاد پر مصنوعی ذہانت (AI) کی مدد سے تیار کی گئی ہے۔ AI سے غلطیاں ممکن ہیں اور اس مواد کی صحت یا اصلیت کی کوئی ضمانت نہیں دی جا سکتی۔ TheAinak صرف معلومات کو یکجا کرتا ہے اور اس کے مواد کا ذمہ دار نہیں ہے۔ قارئین سے گزارش ہے کہ کسی بھی معلومات پر بھروسہ کرنے یا اس پر عمل کرنے سے پہلے اس کی آزادانہ طور پر تصدیق ضرور کر لیں۔

😃+

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button