مظفرپور میں بی جے پی کا ‘سیوا سنکلپ ابھیان’ ورکشاپ: مودی حکومت کی ۱۲ سالہ کارکردگی عوام تک پہنچانے کی حکمت عملی
مظفرپور، بہار: بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے اورائی بلاک میں اپنے ‘سیوا سنکلپ ابھیان’ کے تحت ایک اہم ورکشاپ کا انعقاد کیا، جس کا مقصد مرکزی حکومت کی گزشتہ ۱۲ سال کی کامیابیوں اور عوامی فلاحی اسکیموں کو عوام تک پہنچانا ہے۔ یہ ورکشاپ رام ورکش بینی پوری منڈل، اورائی مشرقی کے جنارھ مڈل اسکول کے احاطے میں منعقد ہوئی، جس کی صدارت منڈل صدر منوج مشرا نے کی۔
مہم کے ۱۳ پروگراموں کی تفصیلات
ورکشاپ کے دوران، بی جے پی کے ضلع صدر وویک کمار نے ‘سیوا سنکلپ ابھیان’ کے تحت منعقد ہونے والے تمام ۱۳ پروگراموں کی تفصیلی معلومات فراہم کی۔ انہوں نے پارٹی کارکنان کو ہدایت دی کہ وہ وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں مرکزی حکومت کی ۱۲ سالہ کارکردگی اور عوام کے لیے شروع کی گئی مختلف فلاحی اسکیموں کے بارے میں عام لوگوں کو آگاہ کریں۔ اس مہم کا بنیادی مقصد حکومت کی پالیسیوں اور اقدامات کے بارے میں صحیح معلومات کو گراس روٹ سطح تک پہنچانا ہے۔
حکومتی اداروں کے ساتھ تال میل
وویک کمار نے اس بات پر زور دیا کہ اس مہم کو کامیاب بنانے کے لیے پارٹی کارکنان کو حکومتی اداروں اور افسران کے ساتھ بہتر تال میل قائم کرنا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس سے نہ صرف سرکاری افسران اور کارکنان کے درمیان بہتر تعلقات قائم ہوں گے بلکہ عام عوام کو بھی حکومت کی پالیسیوں اور ترقیاتی کاموں کے بارے میں مکمل اور درست معلومات میسر آ سکیں گی۔ یہ تال میل مہم کی افادیت کو بڑھانے اور عوامی رسائی کو مضبوط بنانے میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔
شرکاء کی موجودگی
اس اہم ورکشاپ میں کئی سرکردہ شخصیات اور پارٹی عہدیداران نے شرکت کی۔ ان میں رکن پارلیمنٹ کے نمائندے سبھاش شرما، منڈل جنرل سکریٹری نوین کمار اور سنتوش کمار، نائب صدر پون رائے، سندیپ منڈل، تپیشور سمن، مورچہ صدر راما کماری، چندن پاسوان، اکھلیش کمار، اور ویریندر جھا شامل تھے۔ اس کے علاوہ، کئی پنچایت صدور اور بوتھ صدور نے بھی ورکشاپ میں شرکت کی، جو اس مہم کی وسیع پیمانے پر عملدرآمد کی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے۔ یہ ورکشاپ بی جے پی کی جانب سے عوامی رابطہ اور حکومتی کارکردگی کو اجاگر کرنے کی ایک منظم کوشش کا حصہ ہے۔
دستبرداری: یہ خبر دستیاب مقامی ذرائع کی بنیاد پر مصنوعی ذہانت (AI) کی مدد سے تیار کی گئی ہے۔ AI سے غلطیاں ممکن ہیں اور اس مواد کی صحت یا اصلیت کی کوئی ضمانت نہیں دی جا سکتی۔ TheAinak صرف معلومات کو یکجا کرتا ہے اور اس کے مواد کا ذمہ دار نہیں ہے۔ قارئین سے گزارش ہے کہ کسی بھی معلومات پر بھروسہ کرنے یا اس پر عمل کرنے سے پہلے اس کی آزادانہ طور پر تصدیق ضرور کر لیں۔