خاموش انقلاب: پٹنہ کے ‘پیڈ مین’ گورو رائے کی کہانی، جو ماہواری سے جڑی شرمندگی کو مٹا رہے ہیں
ایک نئی سوچ کا آغاز
بہار کے دارالحکومت پٹنہ میں ایک ایسی تحریک جاری ہے جو بظاہر خاموش ہے لیکن اس کے اثرات بہت گہرے ہیں۔ گورو رائے، جنہیں اب پٹنہ کے ‘پیڈ مین’ کے طور پر جانا جاتا ہے، نے ماہواری کے حوالے سے معاشرے میں پھیلی جھجک اور شرمندگی کو ختم کرنے کا بیڑا اٹھایا ہے۔ ان کا مشن صرف سینیٹری پیڈ تقسیم کرنا نہیں، بلکہ خواتین کی صحت اور وقار کے تحفظ کے لیے ایک سماجی بیداری لانا ہے۔
مشکلات اور عزم
ماہواری آج بھی ہمارے معاشرے کے کئی حصوں میں ایک ممنوعہ موضوع سمجھا جاتا ہے۔ گورو رائے نے جب اس کام کی شروعات کی تو انہیں کئی چیلنجوں کا سامنا کرنا پڑا۔ دیہی اور پسماندہ علاقوں میں خواتین اور لڑکیوں کو سینیٹری پیڈ کی دستیابی اور اس کے استعمال کے بارے میں آگاہی فراہم کرنا ایک بڑا کام تھا۔ گورو رائے کا ماننا ہے کہ صحت سے جڑے اس بنیادی حق کو شرمندگی کی چادر میں نہیں لپیٹا جانا چاہیے۔
تحریک کا دائرہ کار
گورو رائے کی کوششوں کے کئی اہم پہلو ہیں:
- ضرورت مند خواتین تک سینیٹری پیڈ کی مفت فراہمی۔
- اسکولوں اور کالجوں میں ماہواری کے دوران حفظان صحت کے بارے میں ورکشاپس کا انعقاد۔
- خواتین کو ان کی صحت کے حوالے سے خود مختار بنانا۔
- ماہواری سے جڑے توہمات اور غلط فہمیوں کو سائنسی بنیادوں پر دور کرنا۔
ان کی یہ مہم اب ایک تحریک کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ وہ نہ صرف پیڈ تقسیم کرتے ہیں بلکہ خواتین کے ساتھ کھل کر بات چیت کرتے ہیں تاکہ اس موضوع پر موجود ‘خاموشی’ کو توڑا جا سکے۔
مستقبل کا عزم
گورو رائے کا سفر یہ بتاتا ہے کہ تبدیلی لانے کے لیے کسی بڑے سرکاری فنڈ یا وسائل کی ضرورت نہیں ہوتی، بلکہ ایک مضبوط ارادے کی ضرورت ہوتی ہے۔ ان کا مقصد ہے کہ بہار کا ہر گھر اور ہر لڑکی اس بنیادی ضرورت سے واقف ہو اور اسے حاصل کرنے میں کسی قسم کی ہچکچاہٹ محسوس نہ کرے۔ ان کی یہ کاوشیں آنے والی نسلوں کے لیے ایک صحت مند اور باوقار معاشرے کی بنیاد رکھ رہی ہیں۔
دستبرداری: یہ خبر دستیاب مقامی ذرائع کی بنیاد پر مصنوعی ذہانت (AI) کی مدد سے تیار کی گئی ہے۔ AI سے غلطیاں ممکن ہیں اور اس مواد کی صحت یا اصلیت کی کوئی ضمانت نہیں دی جا سکتی۔ TheAinak صرف معلومات کو یکجا کرتا ہے اور اس کے مواد کا ذمہ دار نہیں ہے۔ قارئین سے گزارش ہے کہ کسی بھی معلومات پر بھروسہ کرنے یا اس پر عمل کرنے سے پہلے اس کی آزادانہ طور پر تصدیق ضرور کر لیں۔